منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے، آئی ایم ایف

datetime 14  فروری‬‮  2026 |

نیویارک(این این آئی) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے

تاہم ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہئے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہاکہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں اور میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا جبکہ صنعت پر دباؤ کم ہو گا کیوں کہ حکومت سات ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے جبکہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی آئی ایم ایف کا ایک طویل مدتی قرضہ پروگرام ہے، جو ممالک کو گہری معاشی کمزوریوں اور درمیانی مدت کی ادائیگیوں کے توازن کے مسائل حل کرنے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔رائٹرز کے مطابق پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اُس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا نکتہ بنی ہوئی ہے، اگرچہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے

جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے جو پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…