منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ہرپاکستانی شہری کتنے کامقروض ؟ ہوشرباانکشاف سامنے آگیا‎

datetime 29  جنوری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)ہر پاکستانی شہری پرقرضے کابوجھ گزشتہ مالی سال کے دوران 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بڑھتا ہواعوامی قرضہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے،

یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہوگیا۔اس طرح ایک سال کے دوران ہر پاکستانی پر قرضے میں تقریبا 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، یہ حساب ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کو مدِنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک جا پہنچا، جس کی بنیادی وجہ زیادہ سودی ادائیگیاں اور زرِمبادلہ کی شرح میں تبدیلی رہی۔رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ عوامی قرضے کی صورتحال گزشتہ مالی سال میں اہم چیلنج بنی رہی۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈڈیٹ لمٹیشن ایکٹ (FRDL) کے تحت وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ کو مالی پالیسی بیان پیش کرے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ قانون کے مطابق یہ حد 3.5 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھی۔

اس طرح حکومت نے قانونی حد سے تقریبا 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہوگیا، اسی دوران حکومت نے نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی اور نئی گاڑیاں و فرنیچر خریدا، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں کل وفاقی اخراجات 18.9 کھرب روپے بجٹ کیے گئے تھے، جن میں سے موجودہ اخراجات 17.2 کھرب روپے تھے، وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں جو مقررہ ہدف 13 کھرب روپے کا 90.5 فیصد تھیں، جبکہ نان ٹیکس آمدنیاں توقعات سے بہتر رہیں اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئیں۔ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں 1.4 کھرب روپے رہے،جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے، سود کی ادائیگیاں 8.8 کھرب روپے رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…