ننکانہ صاحب(این این آئی)پنجاب بھر میں آٹے، گندم اور نان کی قیمتوں میں ہوشربا اور یکدم اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ متحدہ عوامی موومنٹ اس مجموعی صورتحال کو پنجاب حکومت، نااہل بیوروکریسی اور ناکام گورننس کا کھلا ثبوت قرار دیتی ہے۔ آج صوبے کا غریب، مزدور، کسان اور تاجر نہ صرف مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے بلکہ بجلی اور گیس کی عدم دستیابی نے روزگار، کاروبار اور گھریلو زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے آٹے کے سرکاری ریٹس 20 کلو تھیلا 1810 روپے، 10 کلو 905 روپے، فی کلو آٹا تقریبا 90 سے 95 روپے اور گندم کا سرکاری ریٹ تقریبا 2900 روپے فی من مقرر کر رکھا ہے، جبکہ نان اور روٹی کا سرکاری ریٹ 14 روپے سے 20 روپے مقرر کر رکھا ہے۔
لیکن عملی طور پر یہ سرکاری نرخ صرف فائلوں تک محدود ہیں اور بازار میں ان کا کوئی وجود نہیں۔فیصل آباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 سے 3000 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، فی کلو آٹا 132 سے 150 روپے تک پہنچ چکا ہے، گندم 3400 سے 3600 روپے فی من میں فروخت ہو رہی ہے اور نان و روٹی 25 سے 30 روپے میں بیچی جا رہی ہے۔ لاہور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 سے 2600 روپے، فی کلو آٹا 120 سے 140 روپے، گندم 3200 سے 3500 روپے فی من اور نان 25 روپے سے زائد میں دستیاب ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں 20 کلو آٹا 2400 سے 2700 روپے، فی کلو آٹا 135 سے 150 روپے، گندم 3300 سے 3600 روپے فی من اور نان 25 سے 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں 20 کلو آٹا 2350 سے 2600 روپے، فی کلو آٹا 130 سے 145 روپے اور گندم 3200 سے 3500 روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔ جنوبی پنجاب کے شہروں ملتان، ساہیوال اور دیگر علاقوں میں 20 کلو آٹا 2300 سے 2550 روپے، فی کلو آٹا 125 سے 140 روپے اور گندم 3100 سے 3400 روپے فی من میں فروخت ہو رہی ہے۔ان سنگین حالات پر مزید ظلم یہ ہے کہ پنجاب بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین، صنعتیں، چھوٹے تاجر، آٹا چکیاں اور تندور سب شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں 8 سے 12 گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے، جبکہ گیس کی لوڈشیڈنگ نے گھروں میں کھانا پکانا بھی مشکل بنا دیا ہے۔
تندور مالکان گیس نہ ہونے کا بہانہ بنا کر نان اور روٹی مہنگا فروخت کر رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔یہ اعداد و شمار اور حالات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پنجاب میں پرائس کنٹرول، توانائی مینجمنٹ اور گورننس مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب سرکاری ریٹس موجود ہیں تو عوام کو 2300 سے 3000 روپے میں 20 کلو آٹا کیوں خریدنا پڑ رہا ہے؟ جب فی من گندم کا سرکاری ریٹ 2900 روپے ہے تو 3600 روپے میں فروخت کون کروا رہا ہے؟ جب نان کا سرکاری ریٹ 20 روپے ہے تو 25 سے30 روپے کا نان کس کے حکم پر بیچا جا رہا ہے؟ اور جب بجلی و گیس کے بھاری بل وصول کیے جا رہے ہیں تو عوام کو بنیادی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟متحدہ عوامی موومنٹ واضح الفاظ میں اعلان کرتی ہے کہ عوام کی روٹی، بجلی اور گیس پر یہ ڈاکہ کسی صورت قبول نہیں۔ پنجاب حکومت، فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ، پاور اور گیس کے ادارے اور متعلقہ بیوروکریسی اس عوامی معاشی قتل کی براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ متحدہ عوامی موومنٹ کی مرکزی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آٹے، گندم، نان اور روٹی کے سرکاری ریٹس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، اور ذخیرہ اندوزوں و ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔عوام کی روٹی، عوام کی بجلی اور عوام کی گیس عوام کا بنیادی حق ہے۔مہنگائی، لوڈشیڈنگ، مافیا اور نااہلی نامنظور۔















































