منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں چند امیر افراد ساری دولت پر قابض؛ عالمی رپورٹ میں چشم کشا انکشاف

datetime 16  دسمبر‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)پاکستان میں آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم برقرار ہے، جس کا انکشاف عالمی رپورٹ ورلڈ ان ایکویلیٹی رپورٹ 2026 نے کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے امیر ترین 10 فیصد افراد ملک کی کل آمدنی کا 42 فیصد اور کل دولت کا 59 فیصد کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ ملک کے غریب ترین نصف افراد صرف 19 فیصد آمدنی میں حصہ دار ہیں۔رپورٹ کے مطابق امیر ترین 1 فیصد افراد کے پاس کل دولت کا 24 فیصد موجود ہے، جو ملک میں دولت کی انتہائی غیر متوازن تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں فی کس اوسط آمدنی تقریبا 4,200 یورو اور اوسط دولت 15,700 یورو تخمینا ہے۔گذشتہ دہائی کے دوران آمدنی کی تقسیم میں صرف معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کے مطابق 2014 سے 2024 کے درمیان امیر ترین 10 فیصد اور غریب ترین 50 فیصد کے درمیان فرق 22 سے کم ہو کر 21.4 رہ گیا۔رپورٹ میں صنفی تفاوت بھی نمایاں کی گئی ہے۔ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت دوران مدت کم ہو کر 9.8 فیصد سے 8.5 فیصد ہو گئی، جو ملک میں خواتین کی اقتصادی شمولیت کی محدودیت کی عکاسی کرتی ہے۔

عالمی منظرنامے میں صورتحال اور بھی سخت ہے۔ دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد باقی 90 فیصد سے زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے غریب ترین نصف افراد کے حصے میں صرف 10 فیصد سے کم آمدنی آتی ہے۔ دولت کی تقسیم میں فرق اور زیادہ نمایاں ہے، اوپر کے 10 فیصد کے پاس عالمی دولت کا تقریبا تین چوتھائی حصہ موجود ہے، جبکہ نیچے کے نصف افراد کے پاس صرف 2 فیصد دولت ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں انتہائی امیر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور دنیا کے 0.001 فیصد افراد، یعنی تقریبا 60,000 افراد کے پاس دنیا کے غریب ترین نصف افراد سے زیادہ دولت ہے۔ ان کا عالمی دولت میں حصہ 1995 میں تقریبا 4 فیصد تھا، جو آج 6 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔یہ رپورٹ پیرس میں قائم ورلڈ ان ایکویلیٹی لیب نے شائع کی ہے، جو عالمی اقتصادی ماہرین اور سماجی سائنسدانوں کے تعاون سے تیار کی گئی ہے اور دنیا بھر میں آمدنی اور دولت کی تقسیم کے رجحانات پر تحقیق کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…