اتوار‬‮ ، 12 جولائی‬‮ 2026 

حکومت نے ہزاروں ملاز متیں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

datetime 18  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  حکومتِ پاکستان نے سرکاری اداروں کے حجم میں کمی لانے کے لیے “رائٹ سائزنگ” پالیسی کے تحت 30,968 سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد وفاقی محکموں کی کارکردگی میں بہتری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا بتایا گیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو آگاہ کیا کہ ان میں سے 7,724 آسامیوں کو “ڈائنگ پوسٹس” قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ آسامیاں بتدریج ختم کی جائیں گی۔

اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ کٹوتی گریڈ 1 کی ملازمتوں میں کی جائے گی جن کی تعداد 7,305 ہے۔ اس کے برعکس اعلیٰ سطح پر کم تبدیلی کی گئی ہے، جن میں گریڈ 21-22 کی صرف دو اسامیاں، گریڈ 20 کی 36، اور گریڈ 19 کی 99 ملازمتیں شامل ہیں۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ سیکریٹری نے بتایا کہ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے ڈھانچے کو چھوٹا اور مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ اہم شعبوں پر زیادہ توجہ دی جا سکے۔ ساتھ ہی حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی تجارتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی افادیت کا تعین کیا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ اصلاحات ریگولیٹری اداروں پر اثرانداز نہیں ہوں گی، تاہم ان اداروں کو اپنے مشیروں، ملازمین اور تنخواہوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت ضرور کی گئی ہے۔

اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے اس پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف کفایت شعاری کی بات کرتی ہے، تو دوسری جانب کابینہ کی تعداد میں اضافہ کر چکی ہے، جو ایک تضاد ہے۔ انہوں نے مزید استفسار کیا کہ یہ فیصلہ سرکاری ملازمین، خاص طور پر وہ افراد جو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور ہوں گے، ان پر کس حد تک اثر انداز ہوگا۔

کابینہ سیکریٹری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ رائٹ سائزنگ ایک بڑا اور اہم قدم ہے، جس سے حکومتی اخراجات میں قابلِ ذکر بچت ممکن ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری اسامیوں کے خاتمے سے کئی محکموں میں پہلے ہی مالی وسائل کی بچت دیکھی جا چکی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ کمیٹی کی کارکردگی پر مستقل بنیادوں پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں کو برقرار رکھا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سیٹی سے رزق کمانے والا انسان


بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…