اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

رمضان المبارک، ایل پی جی مافیا بے قابو، مقررہ نرخ کے بجائے من مانی قیمت کی وصولی

datetime 6  مارچ‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی)رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی کھانے پینے کی اشیاء کیساتھ ایل پی جی کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں، مقررہ قیمتوں کی جگہ من مانی قیمتیں وصول کی جانے لگی۔اطلاعات کے مطابق 248روپے فی کلو گرام ایل پی جی 260روپے سے لے کر 290روپے تک میں دھڑلے کے ساتھ فروخت کی جارہی ہے اور انہیں پکڑ نے والا کوئی نہیں، صوبائی حکومت نے انہیں لوٹ مار کی کھلی چھٹی دے دی۔ایل پی جی مافیا نے پانچ روز کے اندر ڈھائی ارب روپے سے زائد کما لیے ہیں مگر اوگرا سمیت ضلعی اور صوبائی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور ہر دکاندار کا اپنا ہی ریٹ ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت یکم مارچ سے چھ روپے کلو کم کر کے 248 روپے فی کلو گرام مقرر کی مگر لاہور کے مختلف ایریاز میں کہیں بھی ایل پی جی سرکاری قیمت پر دستیاب نہیں۔

کوئی بیس روپے زائد تو کوئی 30 روپے تو کوئی 50 سے 60 روپے فی کلو زیادہ وصول کر رہا ہے۔ایل بی جی ڈسٹری بیوٹرز نے کہاہے کہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں انہیں سرکاری ریٹ پر ایل پی جی نہیں دے رہی ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ 255روپے یا 260روپے میں ایل پی جی خرید کر 248روپے میں فروخت کریں، اوگرا صرف قیمت کا تعین کر دیتی ہے مگر ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو چیک نہیں کرتی کیا وہ اپنی مقررہ کردہ قیمت پر ڈسٹریبیوٹر کو ایل پی جی فراہم کر رہے ہیں؟ اور سارا نزلہ دکان داروں پر گرادیا جاتا ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے کہا کہ پولیس اور ضلع انتظامیہ آکر دکانداروں کو پکڑتی ہے جبکہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں جو مہنگی ایل پی جی فروخت کر کے اربوں روپے کما چکی ہیں ان کے اوپر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکر نے کہاکچھ دکاندار بھی سہولت کاری کرتے ہیں کہ رسیدیں نہیں لیتے، رسیدیں لیں تو ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف کارروائی ہوسکے لیکن اگر اوگرا اور حکومت مل کر ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرے جو رمضان میں بھی بلیک مارکیٹنگ کر رہی ہیں تو عوام کو سستی ایل پی جی میسر آسکے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور ضلع انتظامیہ کا سارا زور چھوٹے دکانداروں پر چلتا ہے ان کو بند کر دیا جاتا ہے ہزاروں روپے کے جرمانے کر دیے جاتے ہیں مگر آج تک ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو کوئی بھی جرمانہ نہیں کیا گیا یہی ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں نہ صرف ایل پی جی میں ملاوٹ میں ملوث پائی گئی ہیں بلکہ ایل پی جی کی بلیک میں فروخت کا بھی سارا سہراہ ان کے سر ہے۔



کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…