منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

وی پی این کو قابو کرنے کیلئے پی ٹی اے کے نئے نظام کا انکشاف

datetime 24  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) کو رجسٹر کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ اقدام وی پی این صارفین کو قواعد پر عمل کرنے کی ان کی سابقہ کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ بنیادی طور پر پی ٹی اے پاکستان میں وی پی این کے استعمال کے لیے ایک محفوظ اور ریگولیٹڈ ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے۔پی ٹی اے ریگولیٹر نے ایک نئی لائسنسنگ کیٹیگری متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کمپنیاں وی پی این کی خدمات فراہم کرنے کے لیے اجازت نامے کے لیے درخواست دے سکیں گی۔اس اقدام سے بالآخر غیر رجسٹرڈ وی پی این کے مسئلے کو حل کیا جائے گا، کیونکہ لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعہ فراہم کردہ پراکسیوں کو غیر رجسٹرڈ اور بلاک سمجھا جائے گا۔

لائسنس یافتہ سروس فراہم کنندگان کے ساتھ حکام وی پی این ٹریفک کی نگرانی کر سکیں گے، کیونکہ پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے فراہم کردہ گمنامی حکام کی سب سے بڑی گرفت میں سے ایک ہے۔ایک حالیہ پریس ریلیز میں، پی ٹی اے نے کہا کہ اس نے پاکستان میں سروس فراہم کرنے والوں کو ڈیٹا سروسز کے لیے کلاس لائسنس دینا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔پریس ریلیز میں یہ کہا گیا کہ وی پی این سروس فراہم کرنے والوں کووی پی این اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے کے لیے ڈیٹا کے لیے کلاس لائسنس (ڈیٹا سروسز) حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔”ٹیلی کام ریگولیٹر پہلے ہی ان کمپنیوں کو اجازت دیتا ہے جو انٹرنیٹ اور فون سروسز فراہم کرتی ہیں اور ساتھ ہی ان کمپنیوں کو بھی جو گاڑیوں میں ٹریکنگ ڈیوائسز لگاتی ہیں۔اب پی ٹی اے نے لائسنس یافتہ خدمات کے تحت وی پی این کی ایک نئی کیٹیگری شامل کی ہے۔

اس منصوبے میں یہ تصور کیا گیا ہے کہ مقامی کمپنیاں جو پاکستان کے قوانین، ان کے لائسنس کی شرائط اور ریگولیٹری دفعات کی پابند ہیں، صارفین کو پراکسی خدمات فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ یہ ریگولیٹر کو ان کمپنیوں پر مزید کنٹرول کرنے کے قابل بنائے گا، جہاں زیادہ تر وی پی این فراہم کنندگان غیر ملکی کمپنیاں ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…