جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

توانائی کے شعبے میں 45 کھرب روپے کی لیکیج کا انکشاف

datetime 27  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی )آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی)نے توانائی کے شعبے میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کے الیکٹرک سمیت دیگر ڈسٹریبیوشن کمپنیوں سے عدم وصولی کا انکشاف کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 45کھرب روپے کے نقصان کا باعث بننے والی خرابیوں، درجنوں حکمت عملیوں کا تذکرہ کیا جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں احتسابی عمل کے فقدان اور ناقص اصلاحاتی اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

اکائونٹس آف پاور ڈویژن اور اس سے منسلک آرگنائزیشنز کی آڈٹ رپورٹ 2024 -2023 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 42 صفحات جاری کیے، جن میں وفاقی حکومت کے اداروں میں آڈٹ کے اعتراضات، رقم کی وصولی، زائد ادائیگیوں، ناقص اثاثوں اور معاشی منیجمنٹ، چوری، فراڈ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاور ڈویژن کہ پاور کمپنیوں کے مالیاتی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کو ماہانہ بنیادوں پر کسی بھی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو)کی جانب سے توانائی اور معاشی ڈویژنز کو بلوں کی وصولی میں ناکامی پر مناسب متبادل ایکشن فراہم کرنا ہوتا ہے تاہم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کے آڈٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کے الیکٹرک سمیت ڈسٹرییوشن کمپنیوں (ڈسکو)سے 25 کھرب روپے کی وصولی کی جا سکتی تھی تاہم سی پی پی اے آڈٹ نے انکشاف کیا کہ توانائی کی فروخت کی مد میں ڈسکوز بشمول کے الیکٹرک سے 25 کھرب کی جانی تھی۔

فنڈز کی اس بڑی رکاوٹ کی وجہ سے پاور سیکٹر سخت مالی بحران کا شکار ہے اور پروڈیوسروں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے، نتیجتا، بجلی پیدا کرنے والوں سے اوسط شرح سود 2فیصد سے اوسط شرح سود 4 فیصد تک ادائیگی میں تاخیر کا سرچارج وصول کیا جا رہا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ بڑی رقم ڈسکوز سے وصول کی جاتی تو پاور

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…