منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

توانائی کے شعبے میں 45 کھرب روپے کی لیکیج کا انکشاف

datetime 27  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی )آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی)نے توانائی کے شعبے میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کے الیکٹرک سمیت دیگر ڈسٹریبیوشن کمپنیوں سے عدم وصولی کا انکشاف کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 45کھرب روپے کے نقصان کا باعث بننے والی خرابیوں، درجنوں حکمت عملیوں کا تذکرہ کیا جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں احتسابی عمل کے فقدان اور ناقص اصلاحاتی اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

اکائونٹس آف پاور ڈویژن اور اس سے منسلک آرگنائزیشنز کی آڈٹ رپورٹ 2024 -2023 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 42 صفحات جاری کیے، جن میں وفاقی حکومت کے اداروں میں آڈٹ کے اعتراضات، رقم کی وصولی، زائد ادائیگیوں، ناقص اثاثوں اور معاشی منیجمنٹ، چوری، فراڈ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاور ڈویژن کہ پاور کمپنیوں کے مالیاتی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کو ماہانہ بنیادوں پر کسی بھی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو)کی جانب سے توانائی اور معاشی ڈویژنز کو بلوں کی وصولی میں ناکامی پر مناسب متبادل ایکشن فراہم کرنا ہوتا ہے تاہم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کے آڈٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کے الیکٹرک سمیت ڈسٹرییوشن کمپنیوں (ڈسکو)سے 25 کھرب روپے کی وصولی کی جا سکتی تھی تاہم سی پی پی اے آڈٹ نے انکشاف کیا کہ توانائی کی فروخت کی مد میں ڈسکوز بشمول کے الیکٹرک سے 25 کھرب کی جانی تھی۔

فنڈز کی اس بڑی رکاوٹ کی وجہ سے پاور سیکٹر سخت مالی بحران کا شکار ہے اور پروڈیوسروں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے، نتیجتا، بجلی پیدا کرنے والوں سے اوسط شرح سود 2فیصد سے اوسط شرح سود 4 فیصد تک ادائیگی میں تاخیر کا سرچارج وصول کیا جا رہا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ بڑی رقم ڈسکوز سے وصول کی جاتی تو پاور

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…