جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

200 کے بعد ایک اضافی یونٹ کی قیمت 5000 روپے صارفین سرا پااحتجاج

datetime 2  جولائی  2024 |

مکوآنہ (این این آئی)فیصل آباد صارفین کو آمدن سے زیادہ بجلی کے بل موصول’ عام آدمی ان بجلی بلوں کو ادا کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا، 200کے بعد ایک اضافی یونٹ کی قیمت 5000روپے صارفین سرا پااحتجاج،بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اوورلوڈنگ نے لوگوں کا ناک میں دم کر دیا، بجلی کے بھاری بلوں کے آنے پر اور 200سے زائد یونٹ استعمال کرنے پر چھ ماہ کی پالیسی پرعوام سراپا احتجاج بن گئے۔سوشل میڈیا پر بجلی صارفین کا وفاقی حکومت سی200یونٹ کی پالیسی پر نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کو جو بل بھیجے جا رہے ہیں وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ لوگ انہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔کئی شہریوں کو جتنے بجلی بل موصول ہوئے اتنی ان لوگوں کی ماہانہ آمدن بھی نہیں ہے، کئی علاقوں میں بھاری بل ملنے سے تنخواہ دار طبقہ زیادہ پریشان ہے اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہماری تنخواہیں پہلے ہی کم ہیں اور اس سے گھریلو ضروریات پوری نہیں ہوتیں لہٰذا ہم بجلی کے بھاری بل کیسے ادا کریں،

بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اوورلوڈنگ کو بجلی کے بھاری بلوں کا سبب قرار دیا ہے 200یونٹ کا بل 3000روپے اور 201یونٹ کا بل 8000روپے ظلم ہے اور پھر چھ ماہ تک اس ریٹ پر بل آئے گا جبکہ بجلی صارفین نے بھاری بلوں کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے قائدین نے الیکشن مہم کے دوران عوام کو تین سو یونٹ بجلی مفت دینے کے وعدے کئے مگر اس کے برعکس اقتدار میں آتے ہی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نہ رُکنے والا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ہم بجلی کے بھاری بل کہاں سے ادا کریں کیونکہ اس مہینے جو بل موصول ہوئے وہ ہماری آمدن سے بھی زیادہ ہیں، بجلی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور بلوں میں ٹیکسز بھی ختم کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…