پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستان سے کینو کی بر آمدات کا نیا ریکارڈ قائم

datetime 7  مئی‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن)پاکستان سے کینو کی بر آمدات کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے۔ پاکستان سے کینو کے بر آمدی سیزن 2020-21کے دوران 4لاکھ60ہزار ٹن کینو بر آمد کیا گیا جو ملکی تاریخ میں کینو کی سب سے زیادہ بر آمدات ہے۔ کورونا کی عالمی وباء کے دوران پاکستانی کینو کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستانی کینو نے دنیا

میں کورونا کی وباء کے خلاف انسانی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپریل 2021میں ختم ہونیو الے بر آمدی سیزن کے دوران پاکستان سے دنیا کے چالیس ملکوں کو 4لاکھ 60ہزار ٹن کینو بر آمد کیا گیا جو اس سے گزشتہ سال کی 3لاکھ 53ہزار ٹن بر آمدات کے مقابلے میں 30فیصد زائد ہے۔ کینو کی بر آمدات سے پاکستان کو 25 کروڑ 30 لاکھ (253 ملین) ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق وفاقی وزارت تجارت بالخصوص وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کی بھرپور معاونت اور بروقت فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان سے کینو کی ریکارڈ بر آمدات کی گئی۔ پاکستان سے 2020-21کے سیزن میں کینو کی بر آمد کا ہدف تین لاکھ 50ہزار ٹن مقرر کیا گیا تھا جس سے 21کروڑ ڈالر کی آمدن متوقع تھی۔ وفاقی حکومت کی سرپرستی اور معاونت کی وجہ سے پاکستان نے ہدف سے زائد کینو بر آمد کیا۔ وحید احمد نے کہا کہ پاکستان سے ریکارڈ کینو کی بر آمدکے باوجود کینو کے بر آمدکنندگان کو ریکارڈ خسارے کا سامنا کرنا پڑا، کینو کے سودے روپے کی ڈالر کی مقابلے میں قیمت 168 روپے کے حساب سے طے ہوئے ،تاہم ادائیگیوں کے وقت روپے کی قدر مستحکم ہوکر 153 روپے پر آگئی۔ ایکسپورٹرز

کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ نقصان کرنے کے بجائے بر آمدات محدود کردیں لیکن ملک کی معاشی حالت دیکھتے ہوئے بر آمد کنندگان نے اپنے مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی تاکہ زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے۔ وحید احمد نے کہا کہ کینو کی برآمدی مارکیٹس لاک ڈائون کی وجہ سے بند پڑی تھیں جس کی وجہ سے بھی کینو کو اچھی قیمت نہ مل

سکی جبکہ فریٹ میں غیرمعمولی اضافہ نے بھی ایکسپورٹرز کا خسارہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا. لاک ڈائون اور ترسیل کی رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستانی کینو کی کنسائنمنٹ بروقت درآمدی منڈیوں تک نہ پہنچ سکیں جس سے معیار کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بیشتر منڈیوں میں لاجسٹک مسائل کی وجہ سے متعدد کنسائنمنٹس ایک ساتھ پہنچ گئیں اور ایکسپورٹرز کا مال ان منڈیوں میں ڈمپ ہوکر رہ گیا،جس کے نتیجے میں لاگت بھی نہ نکل سکی

اور ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑاؤ جبکہ سب سے زیادہ نقصان روس کی مارکیٹ میں اٹھانا پڑا۔ وحید احمد نے حکومت پر زور دیا کہ کینو کے ایکسپورٹرز کی معاونت کی جائے جنہوں نے کاشتکاروں کو معیار کی مطابق اچھی قیمت ادا کرنے کے باوجود نقصان اٹھایا ایکسپورٹرز کو درپیش سرمائے کی قلت دور نہ ہوئی تو آنے والے عرصہ میں پاکستان سے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے کاشتکار بھی متاثر ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…