ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

اپنا گھر بنانے کے لیے اب ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ لیا جا سکتا ہے، طریقہ انتہائی آسان

datetime 22  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سیما کامل نے کہاہے کہ اپنا گھر بنانے کے لیے اب ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ لیا جا سکتا ہے،پہلے گھر کے لیے بینکوں سے قرضے لینے شرائط انتہائی مشکل تھیں جنہیں اب آسان کر دیا گیا ہے،جس کے بعد اب قرضہ لینے کی رفتار میں تیزی آ گئی ہے،ملک میں مشترکہ خاندانی نظام

ہے تو گھر کے کمانے والے دو یا دو سے زیادہ افراد بھی مل کر قرضہ لے سکتے ہیں۔ سیما کامل نے کہا کہ ہر ہفتے ڈیڑھ ملین کا قرضہ دیا جا رہا ہے اور یہ رفتار آہستہ آہستہ بڑھے گی۔ گھر کے لیے قرضہ لینے کا طریقہ کار گاڑی کی طرح نہیں ہوتا اس کا طریقہ کار مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ شہروں میں رہتے ہیں ان کے لیے پہلے 35 لاکھ روپے کا قرضہ تھا جو ان کے لیے بہت کم تھا لیکن اب ان کے لیے بھی آسانی کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ تنخواہ دار افراد کے لیے تو قرضہ لینا آسان تھا لیکن ایک چھوٹے دکاندار کے لیے یہ بہت مشکل تھا کیونکہ وہ اپنی آمدنی کی تفصیلات نہیں بتا سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے لیے بینک نے ایک طریقہ کار بنایا ہے کہ آپ اگر آمدن نہیں بتا سکتے اور اپنے اخراجات تو بتا سکتے ہیں کہ آپ کتنا بل دے رہے ہیں یا بچوں کی فیس کتنی دے رہے ہیں اس طرح کے اخراجات سے بینک ان کی آمدنی کا اندازہ لگا کر قرضہ دے گا۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان نے کہا کہ بینکوں سے قرضہ ملنے پر کوئی مسئلہ ہو تو اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے اپنے 16 شکایتی مرکز بنا دیئے ہیں جہاں بینکوں کے خلاف درخواست دی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ گھر بنانے کے لیے بینک سے قرضہ لینے کے لیے اب اکاؤنٹ کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے بلکہ جس نے قرضہ لینا

ہے وہ اپنے قریبی بینک سے رابطہ کریں۔ شناختی کارڈ، دو تصاویر اور اپنے اخراجات کی تفصیلات کے ساتھ بینک سے رابطہ کریں۔سیما کومل نے کہا کہ بینک میں ایک آسان درخواست بھرنی ہوتی ہے کہ وہ قرضہ لینا چاہتے ہیں جس پر بینک 30 دن میں درخواست گزار کو بتائے گا کہ آپ کو قرضہ مل سکتا ہے کہ نہیں اور بغیر کسی وجہ کے درخواست کو رد نہیں کیا جا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…