اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی روپے کی اونچی اڑان جاری امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی

datetime 7  اکتوبر‬‮  2020 |
ڈالر ریٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر مزید 7 پیسے سستا ہو گیا، امریکی کرنسی کی نئی قیمت 164 روپے 4 پیسے سے کم ہو کر 163 روپے 97 پیسے ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ رواں ہفتے

کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر 19 پیسے سستا ہو گئی تھی جس کے بعد ڈالر کی نئی قیمت 164 روپے 51 پیسے سے کم ہو کر 164 روپے 32 پیسے ہو گئی تھی۔دوسرے کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر مزید 28 پیسے سستا ہو گیا تھی، قیمت 164 روپے 32 پیسے سے کم ہو کر 164 روپے 4 پیسے ہو گئی تھی۔ملک بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں چار ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ جس کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈالر تنزلی کا شکار ہے۔دریں اثنا  معروف معاشی تجزیہ کار سٹیفن رویچ نے سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ میں اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 4.3فیصد تک کمی رونما ہوئی ہے ۔

اس کمی سے قبل فروری سے اپریل کے دوران ڈالر کی قدر میں 7فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کا ڈالر ذخیرہ کرنا اور فلائٹ ٹو سیفٹی جیسے عوامل تھے جن سے ڈالر کو خاطرخواہ فائدہ پہنچا۔ لیکن ان فوائد کے باوجود آئندہ چار ماہ کے دوران ڈالر

کی قیمت میں کئی ممکنہ وجوہات کی سے کمی واقع ہو گی ۔ ان میں مقامی سطح پر سیونگز میں غیرمعمولی کمی آنا، خوفناک کرنٹ اکائونٹ خسارہ، امریکہ کے اندر میکرو اکنامک عدم توازن اور امریکی حکومت کی چھ پالیسیاں ہیں۔سٹیفن رویچ نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان عوام کو مدنظر رکھا جائے تو 2021کے اختتام تک ڈالر کی قدر و قیمت میں 30سے 35فیصد تک کمی رونما ہونے کا قوی امکان ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…