عوام تیار ہو جائے  آٹے کی قیمتوں میں کمی کے امکانات ختم

  پیر‬‮ 21 ستمبر‬‮ 2020  |  17:18

کراچی(این این آئی)عالمی مارکیٹ میں گندم کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث مقامی سطح پر آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں جب کہ گندم کی قیمت میں اضافے کے باعث مقامی در آمد کنندگان بھی پریشان ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے در آمد کے رجحان کے باعث عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں مسلسل اضافے کارجحان ہے ،اس وقت فی ٹن گندم کی قیمت 270ڈالرفی ٹن کی سطح سے زائد ہے ،عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں مسلسل اضافے سے مقامی سطح پر آٹے کی قیمت میں کمی


کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں،اس حوالے سے مقامی در آمد کنندہ مزمل چیپل نے بتایا کہ گندم کی در آمد مقامی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی قلت پوری کرنے کیلئے کی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں آٹے کی قیمت میں کسی بھی بڑی کمی کا امکان نہیں،انہوں نے بتایا کہ 15لاکھ ٹن کی قلت پوری کرنے کیلئے حکومت نے نجی شعبے کو گندم در آمد کرنے کی اجازت دی تھی اور شروع میں گندم کے سودے کرنے والے در آمد کنندگان کو فی ٹن گندم 259ڈالر میں پڑی،تاہم اگر بروقت گندم در آمد نہیں کی جاتی تو ملک میں آٹے کی قیمت میں10تا20روپے اضافہ بھی ہوسکتا تھا،تاہم گندم کی مسلسل در آمد سے آٹے کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ رک گیا ہے ،اس وقت چکی کا آٹا 66تا68روپے کلو جبکہ فائن آٹا64روپے کلو میں دستیاب ہے ،تاہم دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی سی پی کو 3لاکھ ٹن گندم در آمد کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎