اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شاپنگ مالز اور ہائوسنگ سوسائٹیز میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

datetime 7  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ایف بی آر کراچی نے بلک سپلائی کی آڑ میں بڑے پیمانے پر سیلز ٹیکس اور ایڈوانس انکم ٹیکس چوری کا انکشاف کیا ہے۔ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کراچی کے معروف شاپنگ مالز اور معروف ہائوسنگ سوسائٹیز کی ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ

مذکورہ شعبے گزشتہ 5 سال سے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ ٹیکس چوری میں ڈالمن مال طارق روڈ، کلفٹن، ناظم آباد، اوشین مال، لکی ون، ایمرلڈ،فورم، صائمہ مال، ملینیم مال، بلیوارڈ حیدرآباد سمیت دیگر شاپنگ مال اور شہر کی ایک بڑی ہائوسنگ سوسائٹی کے علاوہ دیگر سوسائیٹیز بھی شامل ہیں جنہیں ڈائریکٹوریٹ آئی اینڈ آئی کی جانب سے نوٹسز بھی ارسال کردیئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ شہر کے تمام شاپنگ مالز اور مقامی ہائوسنگ سوسائٹی کے الیکٹرک سے بلک میں بجلی حاصل کرتے ہیں جس پر کے الیکٹرک سیلز ٹیکس اور ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کرتی جس کے بعد شاپنگ مالز اور ہائوسنگ سوسائٹیز کی انتظامیہ اپنے صارفین کو اضافی قیمت پر بجلی فروخت کرتے ہیں۔ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ ہائوسنگ سوسائٹی اپنے صارفین اور مالز اپنے کرایہ داروں سے ایڈوانس ٹیکس اور سیلز ٹیکس وصول نہیں کرتے اور شاپنگ مالز کے کرایہ دار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ہیں حالانکہ شاپنگ مالز میں غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کو 17 فیصد سیلز ٹیکس اور 3 فیصد دیگر ٹیکسوں کی مد میں ادائیگیاں کرنی ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاپنگ مالز 30 سے 38 روپے فی یونٹ بجلی کا ریٹ چارج کرتے ہیں اور شاپنگ مالز کی انتظامیہ کو مزید ٹیکس اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں سے  7.5 فیصد بھی وصول کرنا ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق شاپنگ مالز اپنے جنریٹرز سے بھی بجلی پیدا کرتے ہیں مگر اس پر بھی وہ کسی قسم کے ٹیکس کی ادائیگی نہیں کرتے، ڈائریکٹوریٹ آئی اینڈ آئی کراچی کی جانب سے ان شاپنگ مالز کو ٹیکس وصولی کے نوٹسز بھی ارسال کیے گئے جس کے جواب میں صرف تین شاپنگ مالز نے 30 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے۔ڈائریکٹوریٹ نے بتایاکہ کراچی شاپنگ مالز اور ہائوسنگ سوسائٹی پر تقریبا 3 ارب روپے مالیت کے ٹیکس واجبات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو گزشتہ 5 سال سے ادا نہیں کیے جارہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…