ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

سپرہائی وے پرایشیاکی سب سے بڑی مویشی منڈی فری زون قرار بیوپاریوں کیلئے تمام کیٹگری ختم،ملکی اکانومی کو10ارب سے زائدریونیوحاصل ہوگا

datetime 29  جولائی  2020 |

کراچی (این این آئی)22 جون سے سپرہائی وے کراچی پرلگنے والی ایشیاکی سب سے بڑی مویشی منڈی میں تمام کیٹیگری ختم بیوپاریوں کیلئے مویشی منڈی  فری زون  قراردیدی گئی ،بیوپاری و وی وی آئی پی بلاکس سمیت کسی بھی جگہ پر اپنے جانورکھڑے کرکے فروخت کررہے ہیں،ملک کے چاروں صوبوں پنجاب،خیبرپی کے،بلوچستان اورسندھ کیشہروں لاڑکانہ،شہدادکوٹ،میرپورخاص،حیدرآباد،کوٹری،

جامشورو،دادو،سہون ،سکھر،خیرپور،ٹنڈوآدم ،نواب شاہ ،نوشہروفیروز،لاہور،فیصل آباد،شیخوپورہ، بہاولپور،اوکاڑہ،رحیم یارخان،گوجرخان ،گوادر،سبی،پشاوراوردیگرشہروں سے کم وبیش 6  لاکھ سے زائد قربانی کاجانورمویشی منڈی لایاجاچکاہے،کراچی میں لگنے والی دیگرمویشی منڈیوں سے بھی جانوروں کی آمدکاسلسلہ شروع ہوگیا،ایک ہزارایکٹررقبے اوراڑتالیس بلاکس پرمشتمل اس مویشی منڈی میں 22 وی وی آئی پی اوردیگرجنرل بلاکس مختص کیے گئیجہاں کھانے پینے کی اشیاکے اسٹال،خریدوفروخت کیلئیپھیری والوں سمیت لائیواسٹاک اسٹال کیلییشہریوں اور بیوپاریوں کوہرقسم کی سہولت فراہم کی گئی ،مویشی منڈی میں 24 گھنٹیبلاتعطل پانی اوربجلی کی فراہمی جاری ہے،فی جانورسولہ لیٹرپانی مفت فراہم کیاجارہاہیترجمان مویشی منڈی یاوررضاچاولہ کاکہناتھاکہ مویشی منڈی کا 20 ایکٹررقبہ صرف پارکنگ کیلئے مختص ہے،شہریوں اوربیوپاریوں کوکھانے پینیکی سہولیات سمیت جانوروں کیلئے چارے،پینیکیلئے صاف پانی،سیکورٹی کیلئیسی سی ٹی وی کیمرے اورسیکورٹی اہلکارتعینات سمیت یہاں آنے والوں کوہرسہولت میسرہے، دوردرازعلاقوں سے ٓآنے والے بیوپاریوں کی سہولت کیلئیہربلاک میں 300 سے زائدبیت الخلا اورنمازکیلئیمساجداوروضوخانے بھی تعمیرکیے گئے،مویشی منڈی میں ملک کے مختلف شہروں سیعیدالضحی کی رات تک قربانی کے جانوروں کی آمدکاسلسلہ جاری رہے گا،ترجمان مویشی منڈی یاوررضاچاولہ کاکہناتھاکہ  2019 میں ملکی معیشت کو

سہارادینیوالی یہ مویشی منڈی 900 ایکٹررقبیقائم تھی اوریہاں 5 لاکھ قربانی کاجانورلایاگیاجس سیملکی اکانومی کو10ارب روپے کاروینیوحاصل ہوا،انہوں نے کہاکہ ہم شہریوں سیقربانی کاجانورخریدنے کے عوض کوئی ٹیکس وصول نہیں کررہیجس سے یہ اندازہ لگایاجاسکے کہ کتناجانورابتک فروخت ہوچکاہے مگرلوڈرگاڑیوں کی انٹری کے ذریعے ایک محتاط اندازے کے مطابق ابتک تقریبا4 لاکھ قربانی کا

جانورفروخت ہوچکاہیاور خریدوفروخت کاسلسلہ آج بھی جاری ہے،میڈیاکوآرڈینٹرذکی ابڑوکاکہناتھاکہ یہ مویشی منڈی جہاں بیوپاریوں اورشہریوں کے لیے قربانی کے جانورفروخت کرنے کاسبب بن رہی وہیں ملکی اکانومی کے لییایک گیٹ وے ثابت ہورہی ہیابتک مویشی منڈی میں چھ لاکھ سے زائدقربانی کاجانورجن میں اونٹ ،بیل بکرے ،گائے،بچھڑیاوردنبے شامل ہیں یہاں لائے جاچکے ہیں اس بارکوروناوائرس

کیتحت احتیاطی تدابیرپرعمل کرانے کیلئے اسیایک ہزارسے زائدرقبے پروسعت دے کر 7 لاکھ قربانی کے جانوروں کی گنجائش رکھی گئی اورابتک چھ لاکھ سیزائد قربانی کاجانوراس مویشی منڈی کی زینت بن چکاہے،میڈیاکوآڑڈینٹرذکی ابڑونے بتایاکہ آخری دنوں میں ہم نے پوری مویشی منڈی کوتمام بیوپاریوں کیلئے فری زون قراردیدیاہے،بیوپاری اپناجانوروی وی آئی بلاک میں کھڑاکرکیبھی

فروخت کرسکتے ہیں،انہوں نے کہاکہ شہرمیں دیگرچارمویشی منڈیوں سمیت فٹ پاتھ لگنے والی غیرقانونی مویشی منڈیاقائم ہیں اوریہاں کس کی سرپرستی میں رات گئے تک کاروبارجاری رہتاہے؟یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ذکی ابڑوکاکہناتھاکہ سپرہائی ویپرقائم مویشی منڈی میں 22 جون سیاین سی اوسی کیاجلاس میں ہونیوالیفیصلوں کے تحت کوروناایس اوپیزکے تمام قوانین پرمن وعن عمل کیاجارہاہے،مویشی منڈی

صبح سات بجیسے رات گیارہ بجے تک بیوپاریوں اورخریداروں کی اوپن ہے،میڈیاکورآرڈینٹرذکی ابڑوکے مطابق اس بار اگرچھ لاکھ سے زائدقربانی کا جانوریہاں سے فروخت ہوگیاتوپچھلے سال کی نسبت 2020 میں لگنے والی سپرہائی وے کی مویشی منڈی سے ملکی اکانومی کو10 ارب روپیسے زائد کا روینیوحاصل ہوگاآخرمیں ترجمان مویشی منڈی یاوررضاچاولہ نے کہاکہ اس مویشی منڈی سے ہرشخص

کاروزگاروابستہ ہے،ملک بھرمیں 5ماہ سے لاک ڈاون کاشکاربیوپاریوں اورشہریوں کوجہاں روزگارمل رہاہے وہیں اس سے ملکی معیشت کاپہیہ بھی چل رہاہے انہوں نے کہاکہ شہرسے دورقائم یہ مویشی منڈی لاکھوں بے روزگارافراد کیلئے ذریعہ معاش ثابت ہورہی ہیاورہرشخص کے گھرکاچولہابھی جل رہاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…