پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

وزارت ریلوے نے ہاتھ کھڑے کردئیے 6 مسافر ٹرینیں ٹھیکے پر چلانے کا فیصلہ

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)ریلوے حکام نے محکمے کے خسارے میں کمی لانے اور منافع بخش ادارہ بنانے کے لئے 6 ٹرینوں کو آٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر لیا، سب سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی کو ٹرین آئوٹ سورس کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق ریلوے حکام نے 6ٹرینوں کو آٹ سورس کرنے کے حوالے سے پرائیویٹ کمپنیوں سے ٹیکنیکل اور فنانشل بڈ مانگ لی ہیں اور سب سے زیادہ بولی دینے والی

کمپنی کو ٹرین آئوٹ سورس کی جائے گئی ۔اس سے قبل بھی ریلوے حکام نے اپنی تین ٹرینوں فرید ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس اور خوشحال خان خٹک کو آٹ سورس کرنے کے لئے 3مرتبہ ٹینڈر جاری کیا ، لیکن بینچ مارک زیادہ ہونے پر کسی نجی کمپنی نے ٹیکنیکل اور فنانشل بڈ میں حصہ نہ لیا ، اب 6 ٹرینوں جناح ایکسپریس،فرید ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس،خوشحال خان خٹک، لاثانی ایکسپریس اور شاہ لطیف بھٹائی ایکسپریس کو آٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ریلویز نے ٹینڈر جاری کرتے ہوئے نجی سیکٹر سے فنانشل اور ٹیکنیکل بڈز مانگ لی ، ذرائع کے مطابق ریلوے حکام نے اس سے قبل فرید ایکسپریس کو آٹ سورس کرنے کے لئے سالانہ1087ملین ، ہزارہ ایکسپریس کا سالانہ1237ملین اور خوشحال خان خٹک کی660ملین رقم مقرر کی تھی۔نجی سیکٹر کے تعاون سے ٹرینیں چلانے کے لئے ریلوے حکام نے متعدد بار کوششیں کیں لیکن چندایک ٹرینوں کے سوا کوئی منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا، سابقہ دور حکومت میں شالیمار ایکسپریس، فرید ایکسپریس ، بولان میل اور خوشحال خان خٹک ٹرین کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا گیا ، چند ماہ بعد ہی خسارے کی وجہ سے بولان میل ایکسپریس کا ٹھیکے دار ٹرین چھوڑ کر چلا گیا ۔فرید ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس ٹرین کا کنٹریکٹ مکمل ہونے کے بعد دونوں کا کنٹرول محکمہ ریلویز نے خود سنبھال لیا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…