منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فضل الرحمن کے شاہراہوں پر دھرنے ایران سے آنیوالے ٹماٹروں کی راہ میں رکاوٹ: ٹرک اور کنٹینرز کھڑے رہنے کی وجہ سے ٹماٹر خراب ہونے لگے، بیوپاریوں کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے مقامی منڈی میں ٹماٹر کے ہوش ربا اضافے کے پیش نظر ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت د ی لیکن مولانا فضل الرحمن کے ملک بھر میں جاری دھرنوں کی وجہ سے ٹماٹروں کے کنٹینرز اور ٹرکوں کو منزل مقصود تک پہنچنے میں شدید مشکلا ت کا سامنا ہے ۔

کئی ٹرکوں میں موجود ٹماٹرخراب ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے بیوپاریوں کا بڑا مالی نقصا ن ہو چکا ہے ۔دریں اثنا ایم این ایف ایس کے وفاقی سیکریٹری محمد ہاشم پوپلزئی نے بتایا ہم نے ایران سے ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔فیصلےکے مطابق درآمد کنندگان کو گھریلو مارکیٹ میں فروخت کے لیے تین سے چار ہفتوں تک ایران سے ٹماٹر خریدنے کی اجازت ہوگی۔اگرچہ حکومت نے خریداری کے لیے کوٹے کی وضاحت نہیں کی تاہم ٹماٹر درآمدات کے لیے 13 دسمبر کی ڈیڈ لائن طے کی ہے۔دوسری جانب حکومت کو یقین ہے کہ سندھ سے اگلے دو سے تین ہفتوں میں ٹماٹر اور پیاز کی نئی فصل مارکیٹ میں آجائے گی۔ اس دوران ایران سے درآمدات کسی حد تک اس خلا کو پْر کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔توقع ہے کہ اگلے چار دن میں ٹماٹر پاکستان پہنچ جائیں گے۔پاکستان کی جانب سے تفتان بارڈر پر ٹماٹروں کی ترسیل کے لیے ایران کا محکمہ سرٹیفکیٹ پیش کریگا۔‎علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی محبوب سلطان نے ٹماٹر مہنگا ہونے پر عوام کو مشورہ دیتے ہووئے کہا ہے کہ اگر ٹماٹر مہنگا ہے تو اس کا استعمال کوئی ضروری نہیں ہے بلکہ اس کیلئے آپ دہی کا استعمال بھی کر سکتے ہیں جو کہ ایک بہترین متبادل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…