منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

محصولات اور امداد کی کمی فلسطینی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے، 1.8 بلین ڈالر کی فوری ضرورت درپیش ہے، عالمی بینک

datetime 19  ستمبر‬‮  2019 |

مقبوضہ بیت المقدس (آن لائن)عالمی بینک نے کہا ہے کہ محصولات اور امداد کی کمی فلسطینی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔عالمی بینک کی فلسطین پر جاری کی گئی رپورٹ میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے مغربی کنارہ اور غزہ کنتھن شنکر نے کہا ہے کہ فلسطین کو گزشتہ ماہ اسرائیل کی جانب سے فنڈزکے اجراء کے باوجود 1.8 بلین ڈالر کے لیکوئڈیٹی کرنچ یا سرمائے کی

شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث صدر محمود عباس سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نصف تک کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ فلسطینی حکومت کے مالیتی بحران کی وجہ سے سال کی دوسری سہ ماہی میں فلسطینی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 26 فیصد پر آ چکی ہے۔اسرائیل بندرگاہ پر فلسطینی مارکیٹس کیلئے آنے والے سامان پر ہر ماہ تقریباً 190ملین ڈالر کسٹمز ڈیوٹیز اکٹھی کرتا ہے اور اس کو فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطین کو رواں سال فروری میں اس وقت سے سرمائے کی کمی کا بحران درپیش ہے جب اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو فلسطین کی مد میں اکھٹے ہونے والے ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز کی منتقلی روک دی۔فروری میں اسرائیل نے ان رقوم میں سے 10 ملین ڈالر کٹوتی کا اعلان کیا جس پر فلسطینی اتھارٹی نے احتجاجاً کوئی بھی فنڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اتنی ہی رقم ہر ماہ اسرائیل کے ہاتھوں قید فلسطینیوں کے خاندانوں کے کفالت کیلئے ادا کرتا ہے جو کہ اس کے نزدیک ان قیدیوں کو ہیرو کا اسٹیسٹس دینا اور دہشتگردی کو فروغ دینا ہے۔کنتھن شنکر نے کہاہے فلسطین کے معاشی حالات بہت خراب ہیں، سرمائے کی انتہائی کمی کی وجہ سے تنخواہیں دینا محال اور پبلک سروسز چلانا مشکل ہو گیا ہے۔یہ رپورٹ آئندہ ماہ نیویارک میں فلسطین کے عالمی ڈونر گروپ ایڈ ہاک لیڑن کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…