جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

تبدیلی آئی نہیں ۔۔۔تبدیلی آگئی 6سال بعد مہنگائی کی شرح دوبارہ 10 فیصد سے تجاوز

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) نئے مالی سال کے پہلے ماہ میں مہنگائی کی شرح 5 سال 9 ماہ بعد دوبارہ 10 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ ادارہ شماریات پاکستان کا کہنا ہے کہ کنزیومر پرائز انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق رواں سال جولائی میں افراط زر کی شرح 10.34 فیصد رہی جو گزشتہ ماہ 8.9 فیصد تھی جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں 5.84 فیصد تھی۔

اس سے قبل افراط زر کی شرح دو ہندسوں میں نومبر 2013 میں 10.9 فیصد رہی تھی۔ گزشتہ چند ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے اور بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مجموعی طور پر افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا۔حکومت کی جانب سے کیے گئے مخصوص ٹیکس اقدامات کے اثرات بھی افراط زر کی شرح میں اضافے کا باعث بننے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی صارفین اور صنعتوں کے استعمال کے لیے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بھی سامنے آیا۔واضح رہے کہ حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے افراط زر کا ہدف 11 سے 13 فیصد رکھا ے جو گزشتہ سال 7.3 فیصد رہا تھا۔رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں ہی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا۔سی پی آئی ملک بھر کے شہروں میں 480 اشیا کی قیمتوں کا ریکارڈ دیکھتی ہے۔غذائی اجناس سے متعلق ملک میں ہونے والی مہنگائی سے متعلق اگر سالانہ اعداد وشمار دکھیں جائیں تو اس میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اعداد وشمار کے مطابق اس میں 1.5 فیصد کمی آئی۔گزشتہ ماہ خراب نہ ہونے والی غذا کی قیمت میں 7.85 فیصد اضافہ ہوا جبکہ کم مدت میں خراب ہونے والی اشیا میں 8.06 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی میں کھانے کی اشیا، جن کی قیمت سب سے زیادہ بڑھی ہیں۔

ان میں آلو 16.84 فیصد، مونگ کی دال 5.41 فیصد، انڈے 5.06 فیصد، گڑ 4.80 فیصد، ماش کی دال 4.50 فیصد، گندم کا آٹا 3.58 فیصد، تازہ سبزیاں 3.56 فیصد، مسور کی دال 2.83 فیصد، گھی 2.49 فیصد، بیکری کی اشیا 2.45 فیصد، چاول 1.77 فیصد، تازہ دودھ 1.41 فیصد، چنے کی دال 1.31 فیصد، ٹماٹر 1.17 فیصد، چینی 1.09 فیصد اور گوشت 0.93 فیصد رھیں جبکہ اس ہی کیٹیگری میں مرغی کی قیمت 8.26 فیصد۔

تازہ پھلوں کی قیمت 7.95 فیصد، پیاز 1.73 فیصد پان کی قیمت 0.65 فیصد کم ہوئی۔دوسری جانب غذائی اجناس کے علاوہ دیگر اشیا کے حوالے سے مہنگائی 11.1 فیصد سالانہ اور 2.8 فیصد ماہانہ رہی۔یہ اضافہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا اور حکومت نے قیمتوں میں اس اضافے کو مقامی صارفین تک پہنچادیا۔جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں تعلیم 6.9 فیصد، کپڑے 7.4 فیصد، گھر، بجلی، پانی، گیس اور دیگر فیولز 12.74 فیصد، گھریلو ساز و سامان 10.17 فیصد، صحت 8.97 فیصد، ٹرانسپورٹ 14.67 فیصد ہے۔16 جولائی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے پالیسی ریٹ کو 100 بیسس پوائنٹس سے 13.25 فیصد تک اضافہ کردیا تھا اور مرکزی بینک نے اس کی وجہ افراط زر کا دباؤ بتایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…