بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان کو درپیش اقتصادی مسائل کا حل مل گیا ، حکومت کو بہترین مشورہ دیدیا گیا

datetime 24  جولائی  2019 |

لاہور( این این آئی ) ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹنٹس (اے سی سی اے ) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکائونٹنٹس (آئی ایم اے )کے گلوبل ایکنومک کنڈیشنز سروے (جی ای سی ایس) کے نتائج کے مطابق پاکستان کی داخلہ پالیسی اور عالمی معاشیات میں آہستگی کے باعث پاکستان میں بھی اقتصادی سست روی دیکھی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں 1162 اکائونٹنٹس کی رائے شماری سے معلوم ہوا ہے کہ

سال 2018 کے آخر میں عالمی سطح پر اقتصادی سست روی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں اعتماد کی سطح میں کمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔جبکہ سال 2019 کی دوسری سہ ماہی کے دوران ، جی ای سی ایس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھی جس سے اعتماد کی سطح متاثر ہوئی۔ پاکستان میں اے سی سی اے کے سربراہ سجّید اسلم نے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ اور مالیاتی خسارہ دونوں عوامل کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات ہو رہے ہیں۔ مالیاتی نظام میں نئی تبدیلی اور ساتھ ہی عالمی معاشیات کی رفتار میں بھی کمی نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجہ میں پاکستان کی معاشی شرح نمو میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کے حالیہ امدادی پیکیج کی شرائط کے مطابق ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے باعث نجی شعبہ کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی۔ اقتصادی ترقی کی شرح جو گذشتہ سال 5.8 فیصد تھی ، اس سال کم ہو کر 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے ۔ عالمی سطح پر جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور چین نے بھی بہت زیادہ بے یقینی کی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ امریکہ میں بھی اعتماد کی سطح گزشتہ آٹھ برسوں کے مقابلہ میںاس سال کم ترین رہی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ چین سے درامد ہونے والی بہت سی مصنوعات پر لاگو ٹیرف کو بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے ،

جس کے باعث تجارتی ماحول میں تنائو کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔برطانیہ کی معیشت میں بھی سال 2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اعتماد کی سطح کم ہوئی مگر اتنی کمی نہیں ہوئی جتنی سال2018 کی آخری سہ ماہی میں ہوئی تھی۔ سجّید اسلم نے کہا کہ جی ای سی ایس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عالمی سطح پر اقتصادی سست روی جاری ہے ۔لہٰذااس صورتحال میں؛ اعتماد کی کمی کو بحال کر نے کی ضرورت ہے۔

عالمی معیشت کو درپیش سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں مزید شدّت نہ پیدا ہو جائے اس کے علاوہ ، ہمیں ان خدشات کو بھی مدّنظر رکھنا ہو گا کہ؛ چین کی معاشی رفتار میں اچانک کمی نہ ہو جائے، جبکہ برطانیہ میں نوڈیل بریگزیٹ ہونے کی صورت میںبھی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔آئی ایم اے میں تحقیق اور پالیسی کے شعبہ میں نائب صدر رائف لائوسن

(پی ایچ ڈی، سی ایم اے، سی پی اے) نے کہا کہ جی ای سی ایس تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ؛ امریکہ کی معاشی رفتار میں کمی واقع ہو رہی ہے اور صورتحال نہایت غیر یقینی ہے، جبکہ تجارتی ماحول میںتنائو بھی منفی اثرات پیدا کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس ماہ کے آخر میں فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کر دے گا تاکہ معاشی پھیلائو کی رفتار کو برقرار رکھا جا سکے۔ گزشتہ دس برسوں سے امریکی معیشت کی

وسعت میںمسلسل اضافہ جاری ہے۔ جی ای سی ایس تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی شرح نمو میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ البتہ رواں سال کے دوران سست رفتار ترقی دیکھی گئی جو کہ 3 فیصد اور 3.5 فیصد رہی۔ جبکہ گذشتہ برس ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہی تھی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ افراط ذر کے ذیلی اہداف کے تسلسل کے باعث خصوصاً امریکہ اور یورپ میں مرکزی بینکوں کو مالیاتی پالیسی میں نرمی لانے کا موقع مل رہا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…