مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ کی جائے تاکہ صنعتوں کو سستے سرمائے کی فراہمی ممکن ہوسکے : لاہور چیمبر

  ہفتہ‬‮ 4 مئی‬‮‬‮ 2019  |  10:45

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لائے، ایسے وقت میں جب افراط زر کی شرح میں کمی دیکھی جارہی ہے، مارک اپ کی شرح میں بھی کمی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر مسلسلسٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ تک لائی جائے تاکہ صنعتوں کو سستے سرمائے کی


فراہمی ممکن ہوسکے، نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہواور تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں سخت مقابلے کا سامنا ہے جس کی ایک بڑی وجہ زیادہ پیداواری لاگت بھی ہے۔ حکومت اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ مارک اپ کی شرح خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس سے صنعتی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ مارک اپ کی زیادہ شرح کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا ہے اور اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو نہ صرف صنعت اور معیشت کے مسائل مزید بڑھیں گے بلکہ مالی خسارہ بھی بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی سٹیٹ بینک آف پاکستان حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎