جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی بینک کی عدالت نے پاکستان پر 4 ارب ڈالر سے زیادہ کا جرمانہ عائد کر دیا

datetime 5  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک کی انٹرنشیل کورٹ فار سیٹلمنٹ آف انوسمنٹ ڈسپوٹس نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ جرمانے بر وقت ادا نہ کیے گئے تو پاکستان کی قومی پرچم بردار قضائی کمپنی پی آئی اے کے طیارے 60 ممالک میں نہیں آ جا سکیں گے۔ان طیاروں کو اس وقت تک بیرون ملک روک لیا جائے گا۔

جب تک حکومت پاکستان انٹرنیشنل کورٹ فار سیٹلمنٹ آف انوسمنٹ کے عائد کردہ جرمانوں کی ادائیگی نہیں کرے گی۔ یہ جرمانے اس لیے کیے گئے ہیں کہ آسٹریلوی کمپنی ریکوڈیک بلوچستان سے تانبا سونا چاندی نکالنے کا کیس جیت گئی ہے اور حکومت پاکستان ریکوڈیک کیس ہار گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا حکومت پاکستان ترک کمپنمی کار کے (KARKEKY) کا سمندری پاور پلانٹ جو ہنگامی بینادوں پر لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لیے اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے رینٹل ایگریمنٹ (RENTAL AGREEMENT) کر کے منگوایا تھا۔ یہ سمندری پاور پلانٹ 2012ء میں آٹھ ماہ تک کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں کھڑا رہا نہ تو اس سے بجلی بنوائی گئی نہ ہی اُسے تیل فراہم کیا گیا اس کیس میں ترک کمپنی نے انٹرنیشل کورٹ فار سیٹلمنٹ آف انوسمنٹ ڈسپیوٹس سے رجوع کیا اور (آئی ایس آئی ڈی ) انٹرنیشنل کورٹ فار سیٹلمنٹ آف انوسمنٹ ڈسپیوٹس نے فیصلہ کیا کہ حکومت پاکستان ایک ارب 20کروڑ ڈالر ترک کمپنی کار کے کو ادا کرے۔ یہ ادائیگی ابھی تک پاکستان کی طرف سے نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ کورٹ فار سیٹلمنٹ آف انوسمنٹ ڈسپیوٹس نے حکومت پاکستان کے خلاف ایک تیسرے کیس کا فیصلہ کیا۔اس کیس میں بھی پاکستان پر ایک ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔اگر تینوں مقدمات میں ہونے والے 4 ارب ڈالر سے زائد کے جرمانے ادا کرنا پڑے گئے تو سعودی عرب اور یو اے ای کی قرضہ نما امداد ان کی ادائیگیوں سے چلے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…