جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت معیشت کے پیداواری شعبہ پر توجہ مرکوز کرے ‘افتخار علی ملک

datetime 7  فروری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے حکومت پر زور دیا ہے کہ معیشت کے پیداواری شعبہ پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ وزیراعظم عمران خان کے وعدے کے مطابق نوجوانوں کو ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وراثت میں ملے معاشی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ جمعرات کو یہاں ایف پی سی سی آئی کوآرڈینیشن کمیٹی کے

چیئرمین ملک سہیل حسین کی قیادت میں تاجروں کے وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے سرمایہ کاری دوست ماحول کے ساتھ ساتھ سکل ڈویلپمنٹ کی بھی ضرورت ہے اور یہ صرف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لئے تحریک انصاف کی حکومت کو انسانوں پر سرمایہ کاری، عام تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے اور خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی حوصلہ افزائی کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بنیادی ڈھانچے پر غیر معمولی اخراجات کی وجہ سے سماجی شعبے کے لئے مختص فنڈز میں کمی آئی جس نے لاکھوں افراد کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے اور سی پیک سمیت تمام شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور ملازمت کے نئے مواقع کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔ افتخار علی ملک نے مزید کہا کہ معاشی استحکام کیلئے ہمیں آبادی میں اضافے کی شرح کو 2.4 سے کم کرکے 1.52 تک لانا ہو گا جس کیلئے ٹھوس اور حقیقی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں اقتصادی پالیسیاں کاروباری برادری کی مشاوت کے ساتھ تیار کرتی ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ کہ پی ٹی آئی حکومت اس سلسلے میں منطقی اور عملی نقطہ نظر اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی صنعت کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے، حکومت کو بجلی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔ 160افتخار علی ملک نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پڑوسی ممالک کے دوستانہ تعلقات پر توجہ مرکوز کئے

ہوئے ہیں اور کرتار پور راہداری کا فیصلہ اس حوالے سے ایک دوستانہ اشارہ ہے۔ اب بھارت کو بھی دو طرفہ معاملات کو حل کرنے کے لئے اپنی نیک نیتی ثابت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جذباتی نہیں بلکہ تجارتی سوچ اپنانا ہوگی اور دوسرے ممالک خاص طور پر چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر مسابقت کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کم ہو رہی ہے اور درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے یہ

صورتحال انتہائی خراب ہے اور اب وہ اشیاء بھی درآمد ہو رہی ہیں جو پہلے نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے پاکستان کی درآمدات میں 19 فی صد کی کمی جبکہ بھارت کو پاکستانی برآمدات میں اس سال 9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پاک بھارت تجارت میں رکاوٹوں کے خاتمے سے فوری طور پر ترقی کی شرح میں اضافہ نہیں ہوگا اور اس کا معیشت پر معمولی اثر پڑے گا تاہم چند سال میں، ہماری جی ڈی پی کی سطح کافی بہتر ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…