جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

برآمدات میں مستقل اضافے کے لئے بہترین تجارتی پالیسی جاری کی جائے : پیاف

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے اگلی پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی 2018-23 نومبر وسط میں جاری کرنے کے اعلان کو ملکی معیشت کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلی پانچ سالہ سٹرٹیجک تجارتی پالیسی میں برآمدات کا ہدف40ارب ڈالر کی کامیابی کے لئے سابقہ تجارتی پالیسیوں انکی کامیابی اور مضمرات کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دی جائے۔

برآمدات کو ترجیحات دینا ہونگی اور غیر ضروری اور پر تعیش درآمدات مرحلہ وار ختم کرنا ہونگی ۔ چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر ،سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کو گیس و بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر نظر ثانی کرنا ہو گی انکی قیمتوں میں کمی کیلئے خصوصی پیکیج اور ٹیکسوں میں کمی کا اعلان کیا جائے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ حکومتی ریونیو میں اضافہ سے حکومت مالی بحران سے نمٹ سکے،پاکستان میں برآمدات بڑھانے کا پو ٹینشل موجود ہے لیکن بجلی گیس عاملین پیداوار اور کاروبار کرنے کی لاگت زیادہ ہونے کے باعث چالیس ارب ڈالر کا برامدی ہدف مشکل نظر آتا ہے ، پانچ سالہ تجارتی پالیسی میں کاروباری برادری کو مراعات کے علاوہ کاروبار کو آسان بنانے کے لئے قواعد وضوابط کو سادہ اور قابل فہم بنایا جائے۔ کاروباری لاگت کو کم کرنے کے لئے صنعت و تجارت سے درآمدی اور برآمدی اشیاء پر غیر ضروری بوجھ کو کم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ برآمدی ہدف حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صنعتوں کو ارزاں نرخوں پر اور بلا تعطل بجلی و گیس کی فراہم کی جائے اور قرضوں سے نجات دلانے کیلئے حکومت برآمدات کی ترقی پر خصوصی توجہ دے کیونکہ ٹیکس ریونیو کا اچھا خاصا حصہ قرضوں کی واپسی کی نذر ہوجاتا ہے۔ نان ٹیکسٹائل سیکٹر کو نظر انداز کرنے سے بھی برآمدات کمی کا شکار ہیں۔ تمام سیکٹرز کو ساتھ لیکر چلنے سے ہی برآمدات کو فروغ دے کر ہی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کی اہم وجوہات میں بجلی گیس کی قیمتوں کا زیادہ ہونا ہے کیونکہ مہنگی بجلی اور گیس کے باعث پیدوار مہنگی ہونے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی اشیاء مہنگی ہونے کے باعث ان کی

مانگ میں کمی ہورہی ہے جبکہ دیگر ہمسایہ ممالک میں صنعتی مقاصد کیلئے پاکستان کی نسبت بجلی اور گیس سستی فراہم کی جارہی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی صنعتی مقاصد کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ مسابقت کی فضاء برقرار رہے ۔ پاکستانی ایکسپورٹر ز ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے بھر پور جدوجہد کررہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…