بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

برآمدات میں بیرونی سرمایہ کی توجہ کیلئے فریم ورک تیار

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک) کامرس ڈویژن نے برآمدی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے بورڈ آف انوسٹمنٹ سمیت تمام متعقلہ اداروں کو ‘ٹریڈ ریلیٹڈ انوسٹمنٹ فریم ورک’ کے نام سے سرمایہ کاری ڈرافٹ جاری کردیا۔ رپورٹ کے مطابق دستاویزات برآمدات سے متعلق شعبے میں سرمایہ کاری اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو

ختم کرنے کے لیے تجاویز کے ساتھ ایک مفصل فریم ورک مہیا کر رہے ہیں۔  ایک ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ کامرس ڈویژن کو اس پالیسی پر ردعمل کا انتظار ہے اور اس حوالے سے بورڈ آف انوسٹمنٹ نے بھی تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈرافٹ میں وضح کی گئی پالیسی میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اورحالیہ برسوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری میں کارکردگی کو واضح کرتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے درمیان ایک تنقیدی تعلق کو ظاہر کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ کارمس ڈعیژن کی جانب سے یہ پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں گزشتہ 5 برس کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 10 ارب ڈالر تک ریکارڈ کی گئی جن میں سے 81 فیصد کا تعلق پیداوی شعبے کے بجائے توانائی، تیل و گیس، تعمیرات، مالی، آئی ٹی، ٹیلی کام، ٹرانسپورٹ اور تجارت سے متعلق تھی۔ برآمدای سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ڈرافٹ میں لیبر ڈویژن سے وسائل کی تخصیص، جوتے، اور بیگز کے علاوہ ٹیکسٹائلزاور ٹیکنالوجی اسٹیل کی پیداوار سمیت دیگر شعبوں پر توجہ مرکز کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ دستاویزات میں زرعی شعبے پر سرمایہ کاری بالخصوص جوس، مٹھائیاں، مچھلی اور خوردنی تیل پر سرمایہ کاری کی ضرورت کو بھی نمایاں کردیا گیا ہے اسی طرح آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمکل، آئی ٹی سی، ٹیلی کام، لی ای ڈی لائٹس اور سولر پینل پر درآمدی سرمایہ کاری بھی زور دیا گیا ہے۔

کامرس ڈویژن کے مطابق برآمدی سرمایہ کاری سے پیداوار اور مارکیٹ رسائی میں مسابقتی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری میں رواں مالی سال کے ابتدائی سہ ماہی میں 42 فیصد تک کمی آئی ہے جو گزشتہ برس کے اسی دورانیے

میں تنزلی کے مقابلے میں نصف تھی۔ مرکزی بینک کی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی سال 19-2018 میں جولائی سے ستمبر کے دوران گزشتہ برس کے 76 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 43 کروڑ 95 لاکھ ڈالر رہے، جبکہ پاکستان کو بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو روکنے کے لیے غیرملکی زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…