منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جعلی چالانوں کے ساتھ پراپرٹی کی خریدوفروخت کاانکشاف

datetime 13  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) ملک بھر میں غیر منقولہ جائیداد کی خریدو فروخت کے وقت جمع کرائے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کے چالانوں میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کا انکشاف ہوا ہے جس پر ایف بی آر نے نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو ذرائع نے بتایا کہ کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس لاہور کی ٹیم نے جعلی ٹیکس کے چالان جمع کرائے جانے کی اطلاعات ملنے پر

تحقیقات کا باقاعدہ آغاز شروع کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق کروڑوں روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی ہدایت پر کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس لاہور نے اعلی سطح کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس نے ایک بڑی ہاسنگ سوسائٹی اور مختلف بینکوں کے دورے شروع کردیے ہیں اور اب تک کیے جانے والے دوروں کے دورران یہ انکشاف ہوا ہے کہ بعض پراپرٹی ڈیلرز نیشنل بینک کی لاہور میں واقع مختلف برانچوں اور چند اسٹمپ فروشوں کی مدد سے جعلی ٹیکس کے چالان جمع کروا کر سوسائٹیز کے آفس میں جمع کروا رہے ہیں اور ان چالانوں کی بنیاد پر پلاٹوں کی خریدو فروخت کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ کام پچھلے تقریبا دو سال سے جاری ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو اب تک کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور کی ایک ہاسنگ سوسائٹی نے معاملے کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے تمام پراپرٹی ڈیلرز کو نوٹس جاری کردیے ہیں جو کسی بھی طرح غیر مصدقہ چالانوں کے ساتھ پراپرٹی کی خریدو فروخت میں ملوث رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ باقی پرائیویٹ سوسائٹیوں میں بھی یہ کام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…