بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک نے 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری کر دیا،کب سے عوام کیلئے دستیاب ہوگا؟اعلان کردیاگیا

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں جذام کے مرض کو شکست دینے والی جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے کا یادگاری سکہ جاری کر دیا ہے۔یادگاری سکہ جاری کرنے کی تقریب اسٹیٹ بینک کے کراچی میں ہیڈ کوارٹرز میں ہوئی جس میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر اور اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ نے اپنی زندگی پاکستان میں جذام کے

مریضوں کے وقف کردی تھی جس کے باعث پاکستان خطے میں اس مرض پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔ان کا کہنا ہے کہ یادگاری سکے کا اجراء منفرد اقدام ہے جو ماضی میں قائد اعظم، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور عبدالستار ایدھی جیسے عظیم لوگوں کے اعزاز میں کیا گیا۔تقریب میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے ملک کے لیے ڈاکٹر فاؤ کی خدمات کا اعتراف کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ کے اعزاز 50 روپے کا یادگاری سکہ 75 فیصد تانبے اور 25 فیصد نکل سے بنا ہے جبکہ اس کا قطر 30 ملی میٹر اور وزن 13.5 گرام ہے۔سکے کے سامنے کے رخ پر چاند اور 5 نوکوں والا ابھرتا ہوا ستارہ ہے جب کہ عقبی حصے پر ڈاکٹر رتھ فاؤ کا نام اور تصویر کنندہ ہے جس کے ساتھ ان کے عرصہ حیات بھی درج کی گئی ہے۔یادگاری سکہ 9 مئی 2018 سے اسٹیٹ بینک پاکستان سروسز کارپوریشن کے تمام دفاتر میں عوام کو دستیاب ہوگا۔یاد رہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یادگاری سکے کی منظوری گزشتہ سال نومبر میں کابینہ اجلاس میں دی تھی۔ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 57 سال قبل پاکستان میں قدم رکھا اور جذام کے مریضوں کے لیے کراچی میں کلینک قائم کیا، انہوں نے 1962 سے اپنی زندگی پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے وقف کی۔ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1996 میں پاکستان میں جذام کے مرض کو شکست دی اور ملک میں 1996 میں جذام سے نجات کا تاریخی دن منایا گیا۔حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ستارہ قائداعظم اور نشان قائداعظم سے نوازا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ مختصر علالت کے بعد 10 اگست 2017 کو کراچی میں انتقال کرگئی تھیں جنہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی کے مسیحی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا تھا۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…