جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں اشیائے خوردونوش کی دکانوں پر 100فیصد سعودائریشن کے لیے 9 نکاتی فارمولا تیار

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

دمام (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین اقتصاد و محنت نے بقالوں کی سعودائزیشن کی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے 9نکاتی فارمولا پیش کر دیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیاگیا ہے جبکہ وزارت محنت و سماجی بہبود آئندہ مرحلے میں بقالوں کی 100 فیصد سعودائزیشن کا مشن شروع کرنے جارہی ہے۔ ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ سعودیوں کے نام سے بقالے چلانے والے غیر ملکیوں کی پالیسی ناکام بنانے کیلئے مالکان کو بینکوں میں اکاﺅنٹ کھولنے کا پابند بنایا جائے۔

علاوہ ازیں جو سعودی بھی یہ ظاہر کرے کہ فلاں بقالہ اس کا ہے اسے اپنا بقالہ خود چلانے کا پابند کیا جائے۔ کیش میں لین دین بند کردیا جائے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سعودائزیشن کے فیصلے پر عملدرآمد سوچ سمجھ کر کیا جائے، جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔ جلد بازی کے چکر میں قومی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سبزی منڈی اور لیموزین کی مکمل سعودائزیشن کے فیصلوں کے نتائج سے سبق لیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بقالوں کی سعودائزیشن کے فیصلوں کی بدولت عملدرآمد کے پہلے سال ہی 20 ہزار اسامیاں نکلیں گی۔ مجلس شوریٰ میں اقتصادی و توانائی کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمن الراشد نے کہا بقالوں کی سعودائزیشن کا فیصلہ اصولی طور پر بہت اچھا ہے لیکن ماضی کی غلطیوں میں پڑنے سے بچنے کیلئے یہ اقدام بہت سوچ سمجھ کر نا ہوگا۔ بعض غلطیوں کا خمیازہ بڑا بھاری ہوگا۔ الراشد نے توجہ دلائی کہ سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کا کاروبار کرنا قانوناً غلط ہے اس کا خاتمہ تارکین فیس بڑھانے سے نہیں ہوگا بلکہ بینک سسٹم کو موثر کرکے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زبردستی اور یکبارگی سعودائزیشن تھوپنے کے بدلے سعودائزیشن کو کامیاب بنانے کیلئے مناسب ماحول مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ مشرقی ریجن میں ایوان صنعت و تجارت کے ماتحت ٹھیکہ داروں کی کمیٹی کے سابق سربراہ خلیفہ الضبیب نے مکہ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکیوں کا سعودیوں کے نام سے کاروبار اور بقالوں کی سعودائزیشن کا ہدف ایک جھٹکے میں پورا نہیں ہوسکتا۔

وقت درکار ہے ، بیشتر بقالوں کے حقیقی مالک غیر ملکی ہیں۔ الضبیب نے تجویز کیا کہ بقالوں کی سعودائزیشن کے ہدف کو پورا کرنے کیلئے امدادی فنڈ قائم کرنا ہوگا۔ شراکتی کمپنیاں قائم کی جائیں، انہیں کوآپریٹیو سوسائٹیوں کا حصہ بنایا جائے۔ سعودیوں کو بقالوں پر کام کرنے کی تربیت دی جائے۔ حوصلہ ا فزاءسہولتیں فراہم کی جائیں۔ تارکین وطن کو بقالوں کی دنیا سے نکالنے کیلئے نظام الاوقات بنایا جائے۔ تفتیش اور نگرانی کا عمل تیز کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…