پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمت اچانک کیوں بڑھی، بڑے راز سے پردہ اٹھ گیا ،قیمت میں مزید کتنا اضافہ ہوگا،جا ن کر آپ کے ہوش اڑ جائینگے

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(آن لائن)ڈالر کی قیمت کیوں بڑھی، ماہر معاشی امور پروفیسر ڈاکٹر قیس اسلم نے راز سے پردہ اٹھا دیا، کہتے ہیں ڈالر کو مصنوعی طور پر 107 پر روکا گیا، آئی ایم ایف کے پریشر پر اوپن مارکیٹ سے منسلک ہوتے ہی ڈالر 111 روپے تک پہنچ گیا۔روپیہ کمزور اور ڈالر ایک بار پھر جان پکڑنے لگا، ڈالر کی پرواز ایک بار پھر اونچی ہوگئی، سٹیٹ بینک ڈالر کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہوگیا، ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ بھی سامنے

آگیا، ماہرین معاشیات نے ڈالر 112 روپے تک جانے کا خدشہ ظاہر کردیا، ڈالر کی بڑھتی ہو ئی قیمت نے ملک کے قرضوں میں اضافے کیساتھ ساتھ مہنگائی کے طوفان کو بھی دستک دے دی۔ماہر معاشی امور پروفیسر ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ کی مداخلت کے باعث ڈالر کو 107 پر مصنوعی طور پر روکا گیا، ڈالر 112 روپے پر پہنچ کر مستحکم ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سیمہنگائی کا طوفان آئے گا، پروفیسر ڈاکٹر قیس نے کہا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدی بل میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔سینئر نائب صدر لاہور چیمبر خواجہ خاور رشید نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں یکمشت اضافے سے پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونگی جس سے صنعت کی پیدواری لاگت اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھیں گے، انکا کہنا تھا کہ صنعتی خام مہنگا اور غیر ملکی ادایئگیوں میں راتوں رات اضافہ ہوگیا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے برآمدات میں اضافہ، درآمدی حجم میں کمی اور میڈ ان پاکستان کو فروغ دینا ہوگا، اندرونی سیاسی معاشی استحکام ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مستحکم کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…