جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تیل کی قیمتوں میں دوگنا سے بھی زیادہ تباہ کن اضافہ،انتہائی تشویشناک خبر سنادی گئی

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا میں توانائی انفارمیشن ایجنسی نے کہاہے کہ اگلے بیس سال کے دوران دنیا بھر میں تیل کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔2040ء تک تیل کی طلب اور کھپت میں اضافے کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تیل کی پیداوار میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی وزارت پٹرولیم کے زیرانتظام انرجی انفارمیشن ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2040ء تک دنیا بھر میں تیل کی کھپت میں 26 فی صد اضافے کا امکان موجود ہے۔

ایشیا اور افریقا کے ممالک میں تیل کی طلب میں 41 فی صد تک اضافہ متوقع ہے۔ ایشیائی اور افریقی ممالک میں اقتصادی شرح نمو میں اضافے کے باعث تیل کی طلب بڑھ جائے گی۔امریکی توانائی ایجنسی کی رپورٹ حالیہ برسوں کے دوران سامنے آنے والے اعدادو شمار سے کافی حد تک قریب ہے۔ ماضی قریب میں سامنے آنے والی رپورٹس میں بھی کہا گیا تھا کہ ایشیا میں بھارت اور چین نے بڑے پیمانے پر پٹرولیم مصنوعات کا استعمال کیا جس کے باعث 2000ء کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالربیرل تک جا پہنچی تھی۔امریکی توانائی انفارمیشن ایجنسی کی رپورٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تین سیناریو بیان کیے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق پیش آئند دو عشروں عالمی شرح نمو میں درمیانے درجے کا اضافہ ہوا تو تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر یا اس سے کچھ اوپر جا سکتی ہے۔ اگر ڈالر افراط زر کا شکار ہوا یا اس کی قدر میں کمی ہوئی تو فی بیرل تیل کی قیمت 130 ڈالر تک جاسکتی ہے۔دوسرا سیناریو یہ ہے کہ تیل کی پیداوار اور کھپت کے ساتھ عالمی منڈی میں اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو یہ موجودہ قیمت میں چار گنا اضافہ یعنی فی بیرل تیل 225 ڈالر تک جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق آنے والے برسوں میں تیل کی طلب میں اضافے کے باعث مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے تیل کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔

بالخصوص ’اوپیک‘ کے رکن سعودی عرب کے تیل کی پیداوار میں اچھا خاص اضافہ متوقع ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کے ممالک یومیہ 25 ملین بیرل تیل فراہم کررہے جب کہ 2040ء تک یہ پیداوار 33 ملین بیرل یومیہ تک جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…