جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کینسر کا سبب بننے والی پٹرولیم مصنوعات کی فروخت،پاکستانی عوام کی جانیں داؤپر لگادی گئیں

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) ملک میں کینسر کا سبب بننے والی کروڑوں ٹن پٹرولیم مصنوعات درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے فروخت کے لیے ایچ ڈی آئی پی سے کوئی ٹیسٹ بھی نہیں لیاگیا اور جو پٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئیں وہ منظورشدہ فہرست میں شامل نہیں تھیں۔ پاکستان پٹرولیم ریفائننگ بلینڈنگ اور مارکیٹنگ رولز1971کے رول43کے مطابق کوئی بھی شخص کسی اور مصنوعات کی آمیزش والی پٹرولیم مصنوعات کی فروخت نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کی مارکیٹنگ کرسکتاہے

اور نہ ہی غیرقانونی طریقے سے مصنوعات مکس کرسکتاہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی آمیزش کو روکنے کیلیے اسٹوریج کے ٹینکوں کی اسکیلنگ اور مصنوعات کے طریقہ استعمال کے لیے وقتا فوقتا ضروری اقدامات جاری کرتا رہتا ہے اوگرا اتھارٹی تحریری طور پر کسی شخص کو یا کسی ڈیلرکوقواعد کی پابندی کرنے کے بارے میں ہدایت کرسکتاہے۔اوگرا پٹرولیم مصنوعات کو ریگولیٹ کرنے کا ذمے دار ہے اوگرا کو خطرناک مصنوعات کو فروخت سے روکناچاہیے تھا، اوگرا کی جانب سے حیسکول کمپنی پر صرف20 لاکھ روپے کا معمولی جرمانہ عائد کیا گیا،اوگرا کو مذکورہ کمپنی کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے تھا۔ترجمان اوگرا نے بتایاکہ اوگرا نے مقررہ قوانین کے تحت ایکشن لیا تھا اور مروجہ قانون کے تحت متعلقہ کمپنی پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ حیسکول کمپنی کو24 کروڑ روپے سے زائد کی غیر قانونی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تاہم آڈیٹر جنرل نے حیسکول کمپنی کے خلاف کارروائی اور ریکوری کی سفارش کی ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق حیسکو ل پٹرولیم نے2کروڑ 35 لاکھ ٹن سے زائد کا پانی رولیزز گیسولین غیر قانونی طور پر درآمد کیا اورماحول کے لیے خطرناک اثرات رکھنے والی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…