پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کسٹمز افسران کو قانون کے تحت مطلوبہ اختیارات دینے کا مطالبہ

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب اور ریونیو وصولی کا حجم بڑھانے کیلئے ماتحت کسٹمز افسران کو پاکستان کسٹم ایکٹ کے تحت مطلوبہ اختیارات دینے کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔ٹریڈ سیکٹر کا موقف ہے کہ پورٹ قاسم سمیت بیشتر کسٹمزکلکٹریٹ میں متعلقہ کلکٹرز کی جانب سے ماتحت افسران کو ایکٹ کے تحت فیصلہ یا تصفیہ کرنے کے اختیارات نہ دیے جانے کے سبب درآمدی کنسائمنٹس کی نہ صرف کسٹمزکلیئرنس میں تاخیرکا رحجان برقرار ہے بلکہ اعلیٰ عدالت اور کسٹم ٹریبونل میں مقدمات کی تعداد بتدریج بڑھتی جارہی ہے، متاثرہ درآمدکنندگان کے بڑھتے ہوئے مقدمات کے سبب کسٹمز افسران کی بڑی تعداد بھی کلکٹریٹس میں ذمے داریاں نبھانے کے بجائے مقدمات کی پیروری کیلئے عدالت اور کسٹمز ٹریبونل میں مصروف ہوتی ہے، ان مسائل کی وجہ سے کسٹمزکلیئرنس میں تاخیر، ڈیمریجز، ڈیٹنشن اور اضافی چارجزکی صورت میں تمام تربوجھ براہ راست ٹریڈ سیکٹر کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر کیسف خان مروت نے ”قومی اخبار‘ کے استفسار پربتایا کہ محکمہ کسٹمز میں پورٹ قاسم کلکٹریٹ میں خصوصاً جبکہ دیگر کلکٹریٹس میں عموما ًماتحت افسران کوپاکستان کسٹمز ایکٹ کے تحت اختیارات حاصل نہیں جس سے کنسائمنٹس کلیئرنس میں تاخیر کی روایت برقرار ہے، انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے نئے چیئرمین کا تعلق چونکہ کسٹمزگروپ سے ہے لہٰذا انہیں کسٹمز اسٹرکچر کی اصلاح کا منظم پروگرام شروع کرنا چاہیے تاکہ یہ ریونیو جنریٹ کرنے کے ساتھ ٹریڈ سیکٹر کوسہولت دینے والامحکمہ بن سکے،اصلاحی پروگرام کے تحت کسٹمزمیں افسران کی لابیوں کوختم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پورٹ قاسم کلکٹریٹ میں تعینات ماتحت افسران کو اختیارات نہیں دیے جارہے جس سے وہاںخوف وہراس کی فضا ہے۔کیسف مروت نے کہا کہ ٹریڈ سیکٹر ڈیوٹی وٹیکس ادائیگیوں کیلیے تیار ہے لیکن یہ ایف بی آر اورپاکستان کسٹمزمیں سہولتوںسے ممکن ہے۔انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ کلکٹرپورٹ قاسم کی جانب سے ماتحت افسران کے قانونی اختیارات چھیننے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ٹریڈ سیکٹر کوسہولتیںدینے کی ہدایات کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…