پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کراچی :فش ہاربر چینلز پر رش بڑھ گیا ، مچھیروں کی مشکلات میں اضافہ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
fish

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی فش ہاربر کے چینلز پر بڑھتے ہوئے رش کے باعث مچھیروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ کشتیوں سے مچھلی اتارنے کی خاطر ماہی گیروں کو 3 سے چار روز کا کڑا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ٹھاٹے مارتے سمندر میں رزق کی تلاش میں نکلے یہ ماہی گیر 10 سے 15 روز کی کٹھن مسافت طے کرنے کے بعد جب ساحل کی طرف لوٹے ہیں تو انہیں منزل پر پہنچنے کی خوشی سے کہیں زیادہ اس بات کی پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ چینلز پر لنگرانداز ہونے کے لیے اںہیں اب کتنے دن خوار ہونا پڑے گا۔کیماڑی پر روزانہ ڈھائی ہزار کے قریب لانچیں لنگر انداز ہونے کی منتظر رہتی ہیں لیکن اس کی وجہ سے ماہی گیروں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا اور فشنگ سیزن کے دوران یہ سمندر کے چکر بھی کم لگا پاتے ہیں۔ فش ہاربر کے حکام کا کہنا ہے کہ چینل کی توسیع کے حوالے سے کئی بار کے پی ٹی کو درخواست کی لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ماہی گیر دن رات کی محنت کے بعد سمندر سے سی فوڈ کا شکار کرنے والے ماہی گیر حکومت کی جانب سے بنیادی سہولتوں کے طلبگار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…