الریاض(نیوزڈیسک)سعودی عرب کی بڑی تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ اپنے ملازمین کی تعداد میں پندرہ ہزار کی کمی کررہی ہے لیکن اس سے بن لادن گروپ کے زیر عمل تعمیراتی منصوبوں پر جاری سرگرمیوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔سعودی عرب کی ایک مقامی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بن لادن گروپ کے کل ملازمین کی تعداد قریباً دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ایک سعودی ذریعے کے حوالے سے بن لادن گروپ میں ملازمین کی چھانٹیوں کی اطلاع دی گئی ہے لیکن اس کی جانب سے الریاض ،جدہ اور دبئی میں واقع کمپنی کے دفاتر سے رابطہ کرنے پر ملازمین کی تعداد میں کمی کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔سعودی عرب کی تعمیراتی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ مملکت کا تعمیراتی شعبہ بہت نرم ہے اور عمومی طور پر اس میں غیریقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے ۔اس لیے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کس منصوبے پر پہلے توجہ مرکوز کی جائے گی کیونکہ کمپنیوں کو بھی کوئی یقین نہیں ہوتا ہے کہ کون سا منصوبہ کب شروع کیا جائےگا اور اس کو کتنے عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ بن لادن گروپ سے پندرہ ہزار ملازمین کو فوری طور فارغ کیا جارہا ہے اور باقی کو عارضی طور پر جدہ میں اربوں ڈالرز مالیت کے ہوائی اڈے کی تعمیر کے منصوبے پر منتقل کردیا جائےگا۔
سعودی عرب،دو لاکھ ورکرز کا ستارہ گردش میں،پندرہ ہزار فوری برطرف،باقی کو منتقل کرنے کا فیصلہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عوام کے لئے ریلیف ! پیٹرول 55 روپے مہنگا کرنے کے بجائےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
ہیکل سلیمانی
-
آبنائے ہرمز کھل گئی
-
حکومت کا موٹر سائیکل اور رکشے والوں کو سستا پیٹرول دینے کا فیصلہ
-
چھٹیوں میں اضافے کی خبریں! وزیرتعلیم پنجاب کا اہم بیان آگیا
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
گھریلو صارفین کیلئے گیس فراہمی کے شیڈول کا اعلان
-
گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں حیران کن اضافہ
-
سعودی عرب نے ویزا ہولڈرز کو رعایت دیدی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑا اضافہ
-
پنجاب میں سکو ل کب کھلیں گے؟وزیر تعلیم کا اعلان
-
ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ۔۔۔اوگرا کا مؤقف بھی آ گیا
-
یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر اور رجب بٹ کے درمیان جاری تنازع نے نیا رخ اختیار کرلیا
-
’’ایران نے ہمیں ایک تحفہ دیا ہے اور یہ تحفہ آج پہنچ گیا ہے:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو



















































