پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

ملا اختر منصور نے ملا عمر کے انتقال کی خبر کو کیوں چھپائے رکھا؟اصل وجہ سامنے آگئی

datetime 14  ستمبر‬‮  2015 |

کابل (این این آئی)افغانستان کے طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور نے مشرق وسطیٰ میں موجود تحریک کے دیگر اہم رہنماو¿ں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اور انہوں نے حالیہ دنوں میں اپنے مندوب کو ان رہنماو¿ں سے ملاقات کے لیے بھیجا ہے۔جولائی کے اواخر میں طالبان تحریک کے سربراہ ملا عمر کی وفات کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ملا اختر منصور کو نیا امیر مقرر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی طالبان کے مختلف دھڑوں میں اس تقرر کو لے کر اختلافات پیدا ہوگئے۔ملا منصور، ملا عمر کے نائب رہ چکے ہیں اور ان پر یہ کہہ کر تنقید کی جارہی ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر ملا عمر کے انتقال کی خبر کو چھپائے رکھا۔ملا عمر کا انتقال 2013ءمیں ہوا تھا اور ملا منصور کا موقف ہے کہ انھوں نے یہ خبر 2014ءمیں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے تناظر میں طالبان کو متحد رکھنے کی غرض سے افشا نہیں کی تھی۔طالبان کے ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں ملا منصور نے ملا جلیل کو مشرق وسطیٰ بھیجا کیونکہ وہاں مقیم قیادت سے ان کے اچھے مراسم ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ رہنما ملا منصور کی کھل کر حمایت کریں۔طالبان کے سابق امیر کی موت اور نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد سے افغانستان میں ایک بار پھر عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ جولائی میں افغان حکومت سے طالبان کی شروع ہونے والی بات چیت بھی تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات کی ایک دور ملکہ کوہسار مری میں ہوا تھا لیکن دوسرے راو¿نڈ سے پہلے ملا عمر کے انتقال کی خبر سامنے آنے سے یہ سلسلہ معطل ہوکر رہ گیا اور اب افغان حکومت اور پاکستان مل کر پھر مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور انہیں اس مقصد کے لئے امریکہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…