اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ایٹمی اثاثوں کے بارے میں سوال کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں،اسحاق ڈار نے ایٹمی پروگرام پر بیان کیوں دیا؟ شاہ محمود قریشی

datetime 19  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد/لاہور (این این آئی)پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایٹمی اثاثوں کے بارے میں سوال کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں،،وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں ایٹمی پروگرام پر بیان کیوں دیا؟ کیا ان کو جوہری معاملات پر بیان دینا چاہیے؟اس بیان نے ملک میں ایک بحران کو جنم دیا،

اس بیان پر وزارتِ خارجہ کی ترجمان کو اپنی پریس بریفنگ میں وضاحت دینی پڑی، حکومتیں آتی رہی ہیں اور جاتی رہی ہیں،ہم نے اپنی بقا اور دفاع کیلئے اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی ہے،عمران خان کبھی بھی پاکستان کے ان اثاثوں کو کمزور ہونے نہیں دیں گے اور پاکستانی عوام بھی اس کی اجازت نہیں دے گی،سیاست میں بات چیت ہوتی ہے جس کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ایٹمی اثاثوں کی سیفٹی کے بارے میں دنیا کو مطمئن کر چکے ہیں، بہت سے ماہرین اس بات سے اتفاق کر چکے ہیں کہ ہمارا سیفٹی نظام عالمی معیار کا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں سوال جواب کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے،یہ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے کہ ہمارا پروگرام کیسا ہونا چاہیے، اس کی نوعیت کا ہونی چاہیے، میزائل کی رینج کیا ہونی چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارا واضح مؤقف رہا ہے کہ ہمارا پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے، جارحانہ عزائم نہ تھے اور نہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک نے اس بات کی پہل کی اور ہم نے دفاعی نوعیت میں پروگرام بنایا کیونکہ پڑوسی ملک نے پاکستان کو دو لخت کیا اور حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی عوام سے مخاطب ہوکر خطاب کیا جن کے ارادے کسی سے چھپے نہیں ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ایٹمی پروگرام اور اثاثوں پر گفتگو کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے،

ان اثاثوں پر قومی اتفاق رائے ہے اور اس پر پاکستان کی عسکری و سول قیادت کا اتفاق ہے، طویل تسلسل سے ہم نے اپنے دفاع کے لیے پروگرام کو محفوظ رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کبھی بھی پاکستان کے ان اثاثوں کو کمزور ہونے نہیں دیں گے اور پاکستانی عوام بھی اس کی اجازت نہیں دے گی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ

اس معاملے پر پالیسی بیان جاری کریں کیونکہ وزیر خارجہ تو عالمی روابط بنانے میں مصروف ہیں اور اب یہ معاملہ ترجمان دفتر خارجہ سے بڑھ گیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم کو نہیں تو وزیر خارجہ کو فوری طور پر آنا چاہیے تھا اور کہنا چاہیے تھا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے، وضاحت کرنی چاہیے تھی لیکن وہ اپنی دنیا میں گم ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ایوان میں جو بات کی اس کا جواب دیں کیونکہ موجودہ سرکار کے بارے میں پہلے ہی افواہیں چل رہی ہیں کہ کیسے آئی کہاں سے سازش ہوئی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے جہاں ہمارے کارکنان گرفتار ہوئے،

رہنما زخمی ہوئے اور ایک موجودہ رکن قومی اسمبلی امجد خان نیازی پر تشدد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر شبلی فراز سمیت دیگر کے ساتھ جو ہوا وہ کبھی نہیں دیکھا، بہت سے ادوار دیکھے ہیں مگر اس قسم کی سوچ اور تشدد پہلے نہیں دیکھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی جو خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت ہوتی ہے جس کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں اور بات چیت کے لیے حکومت کو پہل کرنی ہوتی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئین و قانون کو پامال کیا جارہا ہے تاہم انسانی حقوق کی بڑی بڑی جماعتیں خاموش ہیں، اس وقت ملک میں جو عدم استحکام ہے وہ موجودہ حکومت کی پیدا کردہ ہے، نیب میں موجود مقدمات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…