پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

دہشتگردی کےخلاف پاکستان کی جنگ کی قیمت۔۔چشم کشا انکشافات

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)دہشتگردی کےخلاف لگ بھگ 14 سال سے جاری جنگ میں پاکستانی معیشت کو 107ارب ڈالر زکا نقصان اٹھانا پڑاجبکہ امریکہ نے 30 ارب ڈالر زکی مالی معاونت فراہم کی جس میں زیادہ تر جنگی اخراجات کی ادائیگی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے واقعے کے بعد جب پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا مالی معاونت ہونے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی بہتری آنا شروع ہو گئی لیکن ملک میں دہشت گردی کے بدترین واقعات سے معاشی اشاریے خراب ہونا شروع ہو گئے۔ معاشی ترقی جو سال 2004-05ءمیں 8.6 فیصد تھی ۔ مالی سال2013-14ءمیں 4 فیصد کے قریب آ گئی۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ اضافہ جو 2006-07ءمیں 6 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا تھا گزشتہ مالی سال 3.2فیصد تک محددو ہو گیا۔ براہ راست بین الاقوامی سرمایہ کاری 2007-08ءمیں 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی جو2014-15ءمیں2 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ مقامی اور بیرونی سرمایاکاری میں کمی آنے کے ساتھ صنعتی شعبے کی ترقی کی رفتار تھمنے لگی

مزیدپڑھیئے :سب سے قریبی ساتھی نے دھوکہ دے دیا

 

۔بد امنی سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ٹیکس آمدن بھی کم ہوئی۔ سیرو سیاحت کا شعبہ متاثر ہونے سمیت سکیورٹی خراجات بھی کافی بڑھ گئے ۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی خلاف جنگ کے متاثرین کی بحالی کے لیے اضافی اخراجات کرنے پڑے۔رواں مالی سال بھی حکومت نے بے گھر ہونے والے افراد اور سکیورٹی کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…