اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے نئی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی جاری کر دی ہے، جس میں امریکا کو درپیش بڑے خطرات کے حوالے سے پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس تازہ دفاعی حکمتِ عملی میں چین کو اب امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار نہیں دیا گیا، بلکہ امریکی سرزمین کے تحفظ اور مغربی نصف کرے (ویسٹرن ہیمسفیئر) میں اسٹریٹجک مفادات کے دفاع کو اولین ترجیح بنا دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی دستاویز میں سابقہ امریکی پالیسیوں پر تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ماضی کی حکومتیں امریکی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہیں، جس کے باعث پاناما کینال اور گرین لینڈ جیسے اہم جغرافیائی مقامات تک رسائی کو خطرات لاحق ہوئے۔ پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ پرانی حکمتِ عملیاں قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئیں۔
نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اب امریکا اپنی توجہ بیرونی دنیا میں وسیع مگر غیر مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے عوام کے عملی مفادات اور ملکی دفاع پر مرکوز کرے گا۔ یہ پالیسی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ سوچ اور اقدامات سے مطابقت رکھتی ہے، جن میں وینزویلا کے خلاف سخت رویہ اور گرین لینڈ کے حصول کی خواہش شامل ہیں۔
یورپ کے بارے میں نئی حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ براعظم کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت پہلے جیسی نہیں رہی، تاہم امریکا یورپی ممالک کے ساتھ تعاون مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔ پینٹاگون کے مطابق یورپ اب امریکی دفاعی منصوبہ بندی کا مرکزی محور نہیں رہا، لیکن شراکت داری برقرار رہے گی۔
اگرچہ چین کو براہِ راست سب سے بڑا خطرہ قرار نہیں دیا گیا، تاہم دفاعی حکمتِ عملی میں اس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ امریکا نے چین کو محدود رکھنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے اور بحرالکاہل کے خطے میں مضبوط دفاعی صلاحیت قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم فوجی تعیناتیوں کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔
دستاویز میں روس، ایران اور شمالی کوریا کو بھی ممکنہ خطرات کے طور پر شامل کیا گیا ہے، لیکن ان کی ترجیح ماضی کے مقابلے میں کم دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجِ میکسیکو سمیت مغربی نصف کرے کے اہم علاقوں میں امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، اگرچہ اس حوالے سے عملی اقدامات کی تفصیل محدود ہے۔
یہ نئی دفاعی حکمتِ عملی کئی ماہ کی تاخیر کے بعد سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چین کے کردار پر پالیسی اختلافات اور تجارتی مذاکرات کے باعث اس کی منظوری میں تاخیر ہوئی۔ ابتدائی مسودے گزشتہ برس وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو پیش کیے گئے تھے، تاہم طویل مشاورت کے بعد اب اسے باضابطہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔















































