پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے چوہدری شجاعت حسین نے مشورہ دے دیا

datetime 5  مارچ‬‮  2023 |

لاہور (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے مرکزی صدر و سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ

اگر حکومت کو روز مرہ اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول رکھنے کیلئے انتہائی سخت نظام رائج کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو بلاخوف و جھجک وہ راہ اپنا لینی چاہیے. پاکستان میں مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں تاہم ایک بڑی اور اہم وجہ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کا خود ساختہ اضافہ ہے۔چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ مارکیٹ پر مکمل چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی شخص اپنی من مانی نہ کر سکے اس سلسلے ضلعی و تحصیل سطح پر لوکل انتظامیہ کے ساتھ میونسپل کارپوریشنز اور کمیٹیوں کو اختیار دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مارکیٹ انسپکٹرز تعینات کر کے مارکیٹ انسپکشن کر سکیں تاکہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ نرخوں پر روزمرہ زندگی کی اشیاء لوگوں کو مہیا کی جا سکیں، ایسا نہیںہے کہ یہ نظام پہلی دفعہ رائج کیا جائے گا بلکہ ماضی میں بھی ہمیں ایسا ہوتا نظر آیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ڈپو سسٹم، کوٹہ سسٹم اور فیلڈ ورک رائج کئے گئے، جس میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ کو اختیارات تفویض کئے جاتے تھے تاکہ وہ مارکیٹ پر نظر رکھ سکیں اور اسکے ساتھ لوکل کمیونٹی پر مشتمل پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فلفور بحال کیا جاناچاہیے تاکہ بہتر طور پر منظم اور مربوط طریقے سے مہنگائی کے جن کو قابو کیا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی جیسی لعنت اور گناہ سے جان چھڑائی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…