بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک میں اشیائے خور دو نوش کے بعد چائے کی پتی کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا

datetime 2  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد (آن لائن)ملک میں اشیائے خور و نوش کے بعد اب چائے کی پتی کی قلت کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے خام مال اور اشیائے ضروریہ کے پورٹ پر پھنسے کنٹینرز کلیئر کرنے کی اجازت کے باوجود جہاں اب بھی ہزاروں کنٹینرز پورٹ پر پھنسے ہیں انہی میں چائے کی پتی کے سیکڑوں کنٹینرز بھی شامل ہیں۔

سابق چیئرمین پاکستان ٹی ایسوسی ایشن اور ایف پی سی سی آئی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر محمد شعیب پراچہ نے آنے والے دنوں میں چائے کی انتہائی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ بندرگاہوں پر پھنسے تقریبا 250 کنٹینرز ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے چیپٹر 84، 85 اور 87 کے درآمدی کنٹینرز کی اجازت دی تاہم اس میں چائے کی پتی شامل ہے یہ واضح نہیں۔شعیب پراچہ نے کہا کہ تاجروں کے احتجاج کے بعد اسٹیٹ بینک نے 180 دن کی تاخیر سے ادائیگی پر کنٹینرز ریلیز کرنے کی اجازت دی، تاہم چائے کی پتی کے فروخت کنندہ ادائیگی میں تاخیر کی اجازت نہیں دے رہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں فروخت کنندہ آرڈر نہیں لیں گے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں میں ڈالر نہ ہونے کی وجہ سے اسوقت تک دارآمد کنندگان پر کروڑوں روپوں کا ڈیمریج اور کنٹینرز کے کرائے لگ چکے ہیں۔ قلت کی ایک بنیادی وجہ حکومت کی طرف سے کوئی طویل مدتی پالیسی نہ ہونا ہے۔سابق چیئرمین ٹی ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ چائے ایک بنیادی جز ہے جسے ہر عام آدمی بھی استعمال کرتا ہے اور چائے کی طلب تقریبا 250 ملین کلو سالانہ ہے۔گزشتہ ہفتہ روپے کی تنزلی سے چائے کی فی کلو قیمت پر اوسطا 110 روپے کا فرق پڑ چکا ہے۔ نئے درآمد کے لیے کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے سپلائی چین انتہائی متاثر ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…