بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

خودکش حملہ آور پولیس یونیفارم میں تھا،اہلکاروں نے پیٹی بھائی سمجھ کر جانے دیا،آئی جی کے پی

datetime 2  فروری‬‮  2023 |

پشاور ( آن لائن )آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ ہم دہشتگرد نیٹ ورک کے نزدیک ہیں اور سانحہ پشاور میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت بھی کرلی ہے جو پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔پولیس نے پیٹی بندھ بھائی سمجھ کا چیک نہیں کیا۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معظم جاہ انصاری نے کہا کہ میں بطور آئی جی،

میرے افسران اور میرے جوان بھی اس وقت تکلیف میں ہیں، گزارش کروں گا کہ ہماری تکلیف میں اضافہ نہ کیا جائے، ہمیں سمجھا جائے، ہم بھی حساس لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 روز گزرگئے، ان 3 روز میں شاید میں صرف 3 گھنٹے ہی سویا ہوں گا کیونکہ میرے پاس بہت کام ہے، جب آپ کو لاکھوں لوگوں کا ذمہ دار بنایا جاتا ہے تو آپ کو وقت ملنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم اپنے ایک ایک شہید کا بدلہ لیں گے، قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہم اس دہشتگرد نیٹ ورک کے نزدیک ہیں جو ہماری اتنی شہادتوں کی وجہ بنا، جنہوں نے اس ملک کے امن کو خراب کیا، جنہوں نے خیبرپخونخوا پولیس کے ساتھ ظلم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سازشی تھیوریوں کے ذریعے میرے جوانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں روڈوں پر لے کر آنا میں کسی صورت برداشت نہیں کروں گا، سازشی تھیوری پیش کی گئی کہ ڈرون حملہ کیا گیا، کوئی آئی ای ڈی پھٹنے کا دعویٰ کررہا ہے، یہ سب فضول باتیں ہیں، یہاں ہر بندہ سائنسدان بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال کیا جارہا ہے کہ خودکش دھماکے میں اتنی شہادتیں کیسے ہوسکتی ہیں جبکہ زیادہ شہادتیں مسجد کی چھت گرنے کی وجہ سے ہوئیں، ہمیں سی سی ٹی فوٹیج بھی مل گئی ہے، ابھی ہزاروں موبائل فونز کی جیو فینسنگ کرنی ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کے جائزے کے لیے وقت اور افرادی قوت چاہیے ہوتی ہے.

اس میں ذرا وقت درکار ہوتا ہے، میں نے خودکش حملہ آور ڈھونڈ نکالا ہے، ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں خودکش حملہ آور کو خیبرروڈ سے پولیس لائنز کی جانب آتے دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے خودکش بمبار کو کیمرے میں شناخت کرلیا ہے، اس کا چہرہ بھی دیکھ لیا ہے اور مسجد کے اندر ملنے والے خودکش بمبار کے سر سے اس کا چہرہ ’کراس میچ‘ بھی کرلیا ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ خودکش بمبار پولیس کی وردی میں ملبوس تھا جس نے عام جیکٹ اور ہیلمٹ پہن رکھا تھا، اس نے منہ پر ماسک لگا رہا تھا اور موٹر سائیکل پر آیا تھا، ہم نے وہ موٹر سائیکل بھی تحویل میں لے لی ہے، پولیس نے پیٹی بندھ بھائی سمجھ کرچیک نہیں کیا ، موٹر سائیکل کا انجن اور چسیز نمبر مٹانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہ اب اگلا مرحلہ دہشتگرد کی شناخت کا ہے، اس کے بعد اس کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں تک پہنچیں گے، مہربانی کرکے جلدبازی نہ کریں، ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…