اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ایل سی نہ کھلنے سے تھر پاور پلانٹ سے بجلی کی فراہمی معطل ہونے کا خدشہ

datetime 20  جنوری‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک کی جانب سے اہم شعبوں بشمول پاور جنریشن کے لیے پلانٹ مشینری اور پرزہ جات کی درآمد کے لیے ایل سی کھولنے کی پابندی کے خاتمے اور ترجیحی بنیادوں پر ایل سی کھولنے کی اجازت کے باوجود توانائی کے شعبے کے لیے درآمدات کی ایل سی کی منظوری نہیں ہورہی۔قومی نوعیت کے منصوبے تھرکول مائننگ

اور پاور پلانٹ کے لیے درآمد کیے جانے والے ایکوپمنٹ اور اسپیئر پارٹس کی درآمد اور کلیئرنس بھی التوا کا شکار ہے جس سے تھر میں کوئلے کی کان سے کوئلے کی پیداوار معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔کوئلے کی پیداوار بند ہونے سے مقامی کوئلے سے بننے والی بجلی کی پیداوار بھی رک جائے گی اور مجموعی طور پر 2500 میگا واٹ بجلی کی مزید کمی کا سامنا ہوگا جس سے موسم سرما میں جاری توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔سندھ حکومت کی شراکت سے تھر میں کوئلے کی کان ڈیولپ کرنے والی کمپنی سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو پاور پلانٹ اور کوئلے کی کان کے لیے ایکوپمنٹ اور اسپیئر پارٹس کی درآمد کے لیے ایل سی کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے کوئلے اور بجلی کی پیداوار بند ہونے کا خدشہ ہے۔ایس ای سی ایم سی کی جانب سے وزارت توانائی کے حکام کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 27 دسمبر 2022 کو ایچ ایس کوڈ چیپٹر 84 اور 85 میں شامل اشیا کی درآمد کے لیے ایل سی کی پیشگی منظوری کی شرط ختم کرتے ہوئے ان اشیا کو ترجیحی فہرست میں شامل کرلیا گیا تاہم اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کے باوجود مذکورہ ایچ ایس کوڈ میں شامل تھر کول پاور پراجیکٹس کے اسپیئر پارٹس اور ایکوپمنٹ کے لیے ایل سی کی دستاویزات کی منظوری نہیں دی جارہی۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے وزارت توانائی کے حکام کو بتایا کہ اہم پرزہ جات اور آلات کی درآمد کے لیے

ایل سی نہ کھلنے کی وجہ سے کان کانی جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور درآمد شدہ ایکوپمنٹ جو پورٹ پر موجود ہے اس پر تاخیر کی وجہ سے بھاری ڈیمرج بھی عائد ہورہا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ایس ای سی ایم سی پاکستان میں بجلی بنانے کے لیے سستا ترین 7.6 ملین ٹن کوئلہ تین پاور پلانٹس کو فراہم کرتی ہے جس سے درآمدی کوئلے کے متبادل کی شکل میں پاکستان کو کثیر زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے۔

کمپنی نے حکام کو مطلع کیا ہے کہ اگر ایک ماہ تک تھر کے کوئلے کی پیداوار معطل رہی تو تین پاور پلانٹس کو درآمدی کوئلے پر چلانے سے پاکستان کو 40 ملین ڈالر کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے وزارت توانائی کے حکام سے اپیل کی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذریعے متعلقہ بینکوں کو چینی کمپنیوں چائنا مشینری انجیئرنگ کارپوریشن اور چائنا ایورسٹ ڈیولپمنٹ انٹرنیشنل لمیٹڈ سے آلات کی درآمد کے لیے اپریل 2022 سے زیر التوا ایل سیز کی فی الفور منظوری کو یقینی بنایا جائے ساتھ ہی تھر کول منصوبے کے لیے معمول کے سازو سامان کی ایل سیز کی بھی بروقت بلا تاخیر منظوری کے اقدامات کیے جائیں تاکہ کان کنی کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…