اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے، پاکستانی صوبہ بنانے کی کوشش نہیں ہورہی، سیکریٹری خارجہ

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم معاملہ ہے، پاکستان اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتا ، کشمیری مسئلے کی بنیادی فریق ہیں،کشمیریوں کو موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں ، گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے، گلگت بلتستان کو پاکستانی صوبہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ، ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد میں کشمیری صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے پاکستان مسئلہ کشمیر پر کمپرومائز نہیں کرے گا، کشمیر کا مسئلہ 1947ء کے تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیریوں کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو رائے شماری کا متبادل تصور نہیں کرتا اقوام متحدہ کی قرار دادیں ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں مسئلہ کشمیر پر لچک دکھائی تھی بیک چینل ڈیلوسی کے ذریعے انہوں نے کئی تجاویز بھی دی تھیں 4نکاتی فارمولہ اور دوسری تحاریر کبھی بھی باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہیں۔

مزید پڑھئے: وزیر اعظم کے اہم ساتھی کیخلاف تحقیقات کا آغاز

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ نہیں بنایا جارہا ہے قومی اخبار کے مطابق گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا کہ روس کے شہر اوفا میں پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات میں مسئلہ کشمیر زیر بحث نہیں آیا۔ اعزاز احمد نے کہا کہ نواز شریف اور نریندر مودی کی اوفا ملاقات میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کے سامنے پاکستان میں را کی مداخلت ، ماہی کیروں کی رہائی اور ایل او سی ورکنگ باﺅنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری خارجہ نے پاکستانی قیادت کی طرف سے حریت رہنماوں سے ملاقات پر بھارتی اعتراض مسترد کر دیا اور کہا کہ بھارت سے اعتراض کا کوئی جواز موجود نہیں ہے ماضی میں ایسی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں حریت رہنماﺅں کو ہر اہم موقع پر نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن مدعو کیا جاتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…