اسلام آباد(نیوز ڈیسک) افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ مہینے کابل میں دہشت گردی کے بعد خراب ہونے والے تعلقات کی بہتری کے حوالے سے پاکستان کو ملے جلے اشارے دیے ہیں۔پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز جمعہ کو کابل کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دورے کے نتیجے میں باہمی تعلقات بحال ہوں گے یا پھر تناو¿ کی کیفیت جاری رہے گی۔اشرف غنی نے کابل میں سرتاج عزیز سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ون-ٹو-ون ملاقات کے بعد افغانستان پر علاقائی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے خطاب کے دوران پاکستان سے اچھے تعلقات کی پالیسی کا عزم دہرایا لیکن ساتھ ہی ساتھ مبینہ طور پر افغانستان میں امن کے مخالف پاکستانی نامعلوم عناصر کی جانب اشارہ بھی کیا۔افغان صدر کے خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سرتاج عزیز سے ملاقات کشیدہ تعلقات کی برف پگھلانے میں ناکام رہی۔عزیز نے علاقائی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ وفد میں وزارت خارجہ کے حکام کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض بھی شامل تھے۔کانفرنس میں شرکت اور غنی سے ملاقات کے علاوہ پاکستانی مشیر نے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، قومی سلامتی کے مشیر حینف اتمر سمیت متعدد افغان رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی دعوت میں بھی شرکت کی۔سرتاج عزیز کی ملاقاتوں کا مرکز پڑوسی ملکوں کے خراب تعلقات میں بہتری کی راہ تلاش کرنا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ دورے کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ اسی طرح سرتاج عزیز کی افغان رہنماو¿ں سے ملاقاتوں پر بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ایک مبصر کے مطابق، کابل دورے کے نتائج کو افغان صدر کے خطاب کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔اشرف غنی نے خطاب میں کہا ’پاکستانی رہنما امن کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہیں مضبوط اور پر اعتماد کے بجائے کمزور اور غیرمستحکم افغانستان پر یقین رکھنے والی قوتوں کو کنٹرول کرنے کی صورت میں چیلنج کا سامنا ہے‘۔پاکستان میں ’امن مخالف عناصر‘ کی جانب اشارے سے افغان صدر کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے کا عزم مانند دکھائی دیتا ہے۔اسلام آباد کے ساتھ تعلقات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے غنی نے کہا ’ہماری اقتصادی حکمت عملی پڑوسی ملکوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے‘۔’ہمیں یقین ہے کہ ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جس میں پاکستان اور افغانستان عوام کی خوشحالی کیلئے اپنی معیشت کو ترقی دے سکیں ‘۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ’ترقی کا راستہ دشوار ہے اور اس میں کئی دھچکے آئیں گے‘۔انہوں نے اس معاملہ پر قومی اتحادی حکومت کے اندر اختلافات کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ’ڈاکٹر عبداللہ اور میں امن کی اس جدو جہد میں متحد ہیں۔
سرتاج عزیز،اشرف غنی ملاقات۔ برف پگھلانے میں ناکام رہی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا
-
امریکا اور ایران کے درمیان نئی تجاویز پر اتفاق ہوگیا، واشنگٹن ٹائمز
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
نمک اور آئینوں سے لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم، حیرت انگیز منصوبہ
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک



















































