جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

شمالی وزیرستان میں پاک فوج 2019 تک تعینات رہے گی، قائمہ کمیٹی برائے دفاع

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیرمین شیخ روحیل اصغر کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب ختم ہونے کے باوجود پاک فوج 2019 تک شمالی وزیرستان میں تعینات رہے گی۔روحیل اصغر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا ان کیمرا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)عالم خٹک اور پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے ضرب عضب پر بریفنگ دی گئی۔دفاعی حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 15 جون 2014 کو شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کن مرحلہ جاری ہے، آپریشن میں اب تک 3 ہزار 500 سے زائد دہشت گرد ہلاک اور ان کے درجنوں ٹھکانے اور اسلحہ فیکٹریاں تباہ کی جا چکی ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا گیا کہ آپریشن ضرب عضب میں شمالی وزیرستان کا بیشتر علاقہ دہشت گردوں سے خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ آپریشن کا فیصلہ کن مرحلہ شوال وادی میں جاری ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف شوال میں جاری زمینی آپریشن میں اب تک 200 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ آپریشن ضرب عضب کے درعمل میں اب تک 300 سے زائد فوجی جوان اور افسران بھی شہید ہو چکے ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے دوران سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی۔دوسری جانب روحیل شیخ کا قائمہ کمیٹی کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہی کافی نہیں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا بھی صفایا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں چند سیاستدانوں کی گرفتار کرنا کافی نہیں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افغانستان جا کر داعش میں شامل ہو رہے ہیں جو ایک بڑا خطرہ ہے، اس خطرے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ ضرب عضب ختم ہو جائے تو بھی سرحد کو ایسے نہیں چھوڑا جا سکتا، پاک فوج کو 2019 تک شمالی وزیرستان میں رہنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…