پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

آصف علی زرداری نے ایسا کیا کہا کہ حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی،جانیئے لندن سے جاری بیان کی مکمل رپورٹ میں

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے رہنماوں کےخلاف کارروائیوں کی تمام تر ذمہ داری نواز شریف پر ڈالتے ہو ئے کہا ہے کہ نواز شریف 1990ءکی دہائی کی سیاست دہرا رہے ہیں، ہم نے 2013ءکے عام انتخابات کو جمہوریت کی خاطر تسلیم کیا حالانکہ وہ آراوز کے انتخابات تھے،ہم وہ لوگ نہیں جو معافی مانگ کر جدہ بھاگ جاتے ہیں، حالی ہی میں انتخابی ٹریبونلز کے فیصلوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کو انتخابات جیتنے کے لئے باہر سے مدد مل رہی تھی،وفاقی ایجنسیوں کی سندھ میں کارروائیاں آئین کی کھلی خلاف ورزی ہیں،ایجنسیاں منصفانہ احتساب کرنا چاہتی ہے تو اس وفاقی وزیر کے خلاف سب سے پہلے کارروائی کریں جس کا اعترافی بیان موجود ہے کہ شریف برادران منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔لندن سے جاری ہونے والے بیان میں سابق صدر نے کہا کہ ایسے وقت جب دشمن کی جانب سے شیلنگ اور فائرنگ کے ذریعے ہمارے دیہاتی اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور پاکستانی فوج دہشت گردوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے اور اس کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت بھی کر رہی ہے، میاں نواز شریف حقیقی دشمن کو چیلنج کرنے کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی اور اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سا بق صدر نے کہا کہ حکومت کے اقدامات اس بات کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں کہ حکومت قوم کو تقسیم کر رہی ہے اور اپنے نیچرل ساتھیوں طالبان اور دہشت گردوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرکے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پوری طرح سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنے جوانوں کو سلام پیش کرتی ہے جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے قاسم ضیاءاور سینیٹر بنگش کے صاحبزادے کو گرفتار کیا گیا اور اب ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں گرفتار کرنے کے فوراً بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم جو بیمار ہیں ان کو گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے ہیں۔ صوبہ سندھ میں بیوروکریٹس کو ایف آئی اے اور نیب ہراساں کر رہی ہے۔ یہ سارے اقدامات سیاسی انتقام کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اورایسا کرنے سے سندھ کو غیر متحرک کر دیا گیا ہے اور یہ کام براہِ راست وزیراعظم کے حکم سے کیا جا رہا ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ پنجاب میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک صوبائی وزیر رانا مشہود میاں برادران کے لئے پیسے وصول کر رہے ہیں لیکن رانا مشہود کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن نڈر ہیں اور انہیں اس طرح سے مقدمات کوڑے اور جیلیں شکست نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہم وہ لوگ نہیں جو معافی مانگ کر جدہ بھاگ جاتے ہیں۔ قوم کو معلوم ہے کہ معافی مانگنے والا سیاستدان صرف نواز شریف ہے۔ آج میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ صرف پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہیں۔ پیپلز پارٹی تھی جس نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر سے پابندی اٹھائی حالانکہ پارٹی کو پتہ تھا کہ اس سے صرف میاں برادران کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتقامی سیاست کو فوری طور پر روکا جائے ورنہ اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے سندھ میں کارروائیاں آئین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اگر یہ ایجنسیاں منصفانہ احتساب کرنا چاہتی ہے تو انہیں اس وفاقی وزیر کے خلاف سب سے پہلے کارروائی کرنی چاہیے جس کا مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا ایک اعترافی بیان موجود ہے کہ وہ شریف برادران کے لئے منی لانڈرنگ میں ملوث ہے۔ اس کے بعد ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ مسلم لیگ(ن ) کے لوگ کتنے پاک صاف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماڈل ٹاﺅن میں ہونے والے قتل عام کے بارے جسٹس نجفی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے، ماڈل ٹاﺅن میں بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اصغر خان کیس میں ملوث سارے کرداروں کو بھی گرفتار کیا جائے۔ سابق صدر نے کہا کہ جو لوگ ماڈل ٹاﺅن لاہورکے قتل عام میںملوث ہیں جن میں 14 معصوم لوگ جن میں عورتیں بھی شامل تھیں کیا وہ دہشتگرد نہیں؟ ان لوگوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا؟ آصف علی زرداری نے کہا کہ ناانصافی کی یہ کالی رات جلد ختم ہونے والی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…