پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات میں غیرملکیوں کے لیے بغیر کفیل اقامے کا آغاز

datetime 4  اکتوبر‬‮  2022 |

دبئی (آئی این پی)متحدہ عرب امارات کی حکومت نے غیرملکیوں کے لیے گولڈن، ورچوئل اور گرین سمیت 10 اقسام کے اقاموں کا آغاز کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹم اور پورٹس سکیورٹی نے کہا ہے کہ غیرملکیوں کے لیے دس اقسم کے اقاموں کا اجرا شروع کیا گیا ہے۔

ان کی مدت دو سے دس برس تک ہے۔ تمام اقامے قابل توسیع ہیں۔ نئے اقامہ نظام میں سرمایہ کاروں، تاجروں، سائنسدانوں، ماہرین، ممتاز طلبہ، فلاحی خدمات، ڈاکٹروں اور زندگی کے تمام شعبوں کے ہنرمندوں کے لیے ویزوں اور اقاموں کی سہولت دی گئی ہے۔ ویزا اور اقامے کی کارروائی کو مختصر اور آسان بنانے کے ساتھ سہولتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ امارات میں مقیم غیرملکی کی فیملی اورغیرملکی پاسپورٹ ہولڈر جی سی سی ممالک کے شہریوں کی اولاد و بیگمات کے لیے بھی اقامہ جاری ہوگا۔علاوہ ازیں وفاقی اتھارٹی کے سربراہ کے جاری کردہ ضوابط کے مطابق انسانی حالات کی بنیاد پر بھی اقامے کا اجرا ہوگا۔ وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹم اور پورٹس سکیورٹی نے کہا ہے کہ ملک میں کفیل کا نظام مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ نئے ویزوں کے نظام میں کفیل کے لیے کوئی جگہ نہیں۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ آئندہ آجر اور اجیر کے درمیان کاروباری تعلق پر انحصار ہوگا۔ ریکارڈ وقت میں ویزا جاری ہوگا اور مقررہ سہولتوں کی فراہمی میں غیرمعمولی لچک کا مظاہرہ کیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ غیرملکی اقامہ ختم ہونے یا منسوخ کیے جانے کے بعد ایک سے چھ ماہ تک امارات میں قیام کرسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…