پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

د دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کارروائی کرنے کافیصلہ

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ سندھ کے مشیربرائے مذہبی امور ڈاکٹر قیوم سومرو کی صدارت میں بدھ کو اعلی سطح کااجلاس ہوا۔اجلاس میںکمیٹی کی مشاورت سے دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے مدارس کے خلاف کارروائی کرنے پر اتفاق کیاگیا۔اجلاس میں آئی جی سندھ غلام حیدرجمالی،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ اے ڈی خواجہ، ڈی آئی جی ثنا اللہ عباسی سمیت حساس اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کارروائی کرنے لیے 10 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔کمیٹی میں 5علما کرام اور 5 ممبر حکومت کی جانب سے شامل کیئے جائیں گے۔اجلاس میں حساس اداروں کی جانب سے علماءکرام کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ سندھ میں 48مدارس کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔کراچی میں 23اور حیدر آباد میں 13مدارس مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔12مدارس سندھ کے دیگر اضلاع میں ہیں۔اس موقع پر تمام مکاتب فکر کے علما نے دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث مدارس کے نام منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ۔علماءکرام نے کہا کہ مشکوک مدارس کی آڑ میں مدارس کے طلباءکو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیاجائے۔ااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرقیوم سومرونے کہاکہ دہشت گرداور مدارس کو الگ کرنے کے لئے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔محکمہ داخلہ کے ساتھ مل کر مدارس کی رجسٹریشن مکمل کی جائے گی۔آئی سندھ غلام حیدر جمالی نے کہاکہ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے گی۔آپریشن مجرموں کے خلاف ہورہاہے ۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے ٹارگٹڈ آپریشن کے نئے مرحلے کی منظوری دیدی ہے ۔آپریشن کے اگلے مرحلے میں جرائم کی شرح کو مزید کم کریں گے۔ جلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کہا کہ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کا دائرہ کار بڑھادیا گیاہے اور اس میں مزید تیزی لائی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ مالی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لینے کی تیاری مکمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلاتفریق آپریشن ہورہا ہے ۔دہشتگردی میں استعمال ہونیوالے پیسے کے ذرائع کو روکنا ایکشن پلان کا حصہ ہے۔آئی جی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ،دہشتگردی،بھتہ خوری کا چیلنج درپیش تھا جس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد جہاں ہوں گے کاروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور دیگر ادارے بھی مالی جرائم کے خلاف کاروائی کررہے ہیں،دہشتگردی میں استعمال ہونے والے پیسے کو روکنے کے لیے روکا جائے گاانہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہر صورت اور بھرپور ایکشن لیاجائےگا۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی ثناءاللہ عباسی نے بتایا کہ کراچی:48مدارس کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…