پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سندھ اسمبلی دیگر تین صوبائی اسمبلیوں سے آگے

datetime 26  اگست‬‮  2015 |
Px04-010 KARACHI: Nov04 – Speaker Sindh Assembly Agha Siraj Durrani presiding over the provincial assembly session in Karachi. ONLINE PHOTO by Saeed Iqbal

کراچی (نیوزڈیسک)سندھ اسمبلی نے اپنے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 41بلوں کی منظوری کے ساتھ ملک کی دیگر تین صوبائی اسمبلیوں پر ایک مرتبہ پھر اپنی سبقت برقرار رکھی۔پاکستان کے پارلیمانی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2014 میں شروع ہوکر جون 2015ءمیں اختتام پزیر ہونے والے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران پارلیمانی کارکردگی کے حوالے سے ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں سندھ اسمبلی کو برتری حاصل رہی جس نے ایک سال کے دوران 41بل منظور کئے اس کے مقابلے میں پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں نے بالترتیب 37,37 بلوں کی منظوری دی ضبکہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی محض 16بلوں کی منظوری دے سکی تاہم اسمبلی سیشن کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی نے سبقت حاصل کرلی جس کے پورے پارلیمانی سال کے دوران8سیشن ہوئے، سندھ اسمبلی اپنے 7سیشن،پنجاب اسمبلی 6 اور خیبر پختونخوا اسمبلی محض3سیشن منعقد کرسکی۔رپورٹ میں صوبائی اسمبلیوں کے بجٹ سیشن کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سندھ اور پنجاب کی اسمبلیوں نے بجٹ سیشن کے لئے دس دس روز مختص کئے جبکہ بلوچستان اسمبلی نے 7 اور کے پی کے اسمبلے نے 9روز تک بجٹ پر بحث کی۔اس عرصے میں سب سے زیادہ قراردادیں پنجاب اسمبلی نے منظور کیں جن کی تعداد 46 ہے دوسرے نمبر پر کے پی کے کی اسمبلی رہی جس نے 38 قراردادوں کی منظوری دی اسی طرح سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں نے علی الترتیب 24اور28قراردادیں منظور کیں۔چاروں صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی کے دوران قائد ایوان یعنی وزرائے اعلیٰ کی ایوان میں موجودگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ پورے پارلیمانی سال کے دوران 33روز،کے پی کے کے وزیر اعلیٰ 20روز،پنجاب کے وزیر اعلیٰ محض ایک دن اور سندھ کے وزیر اعلیٰ 25روز موجود رہے۔ پلڈاٹ نے چاروں صوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں قائد حزب اختلاف کی موجودگی پر بھی کڑی نظر رکھی اور بتایا کہ سال بھر کے دوران بلوچستان، کے پی کے، پنجاب اور سندھ کے قائد حزب اختلاف بالترتیب22،30،16،43 دن ایوان میں موجود رہے۔ اسی طرح پورے پارلیمانی سال کے دوران سندھ اسمبلی کی 63، پنجاب اسمبلی کی62،کے پی کے کی58 اور بلوچستان اسمبلی کی47 نشستیں ہوئیں۔اس عرصے میں سندھ اسمبلی میں 5اور کے پی کے کی اسمبلی میں7آرڈی ننس بھی پیش کئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…