لاہور( این این آئی) راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے سے متعلق نئی انکوائری رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ منصوبے پر غلط رپورٹ دینے پر سابق کمشنر گلزار حسین شاہ اور پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انکوائری آفیسر عمر رسول کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ایسے افسران کو تعریفی
اسناد جاری کیے جائیں جنہوں نے اختلاف کیا اور انہیں گلزار حسین شاہ کی خفگی کا سامنا کرنا پڑا، ان افسران میں کیپٹن (ر)انوار الحق، جہانگیر احمد، عمارہ خان، علی عنان قمر، وسیم علی تابش اور ڈاکٹر فرخ نوید شامل ہیں۔ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان کی تجویز پر مورت انٹرچینج کی ری ڈیزائننگ تکنیکی بنیادوں پر کی گئی اور صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کو بعد میں اس تبدیلی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، ہائوسنگ سوسائٹیز کے نمائندوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ اس تبدیلی میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔دستاویزی شواہد اور تکنیکی ماہرین کے بیانات کی روشنی میں تین صف بندیوں 2017، 2020 اور 2021 کے مختلف پہلوئوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک موازنہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نام نہاد 2021 کی صف بندی غیر تکنیکی مفروضوں پر مبنی تھی، غلط بیانی اور حقائق کو چھپا کر اس کی منظوری دی گئی۔سابق کمشنر کے خلاف کارروائی کی سفارش اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ انہوں نے 7مئی 2021 کو ایک غلط رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سابق کمشنر کی طرف سے پیش کی گئی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری رپورٹ ان کے خلاف بعد میں ہونے والی تمام انتظامی اور مجرمانہ کارروائیوں کی بنیاد ہے۔گلزار حسین شاہ کی تیار کردہ یہ رپورٹ من گھڑت اور غیرقانونی تھی جس کا مقصد کیپٹن (ر)محمد محمود کو پھنسانا ، یہ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات میں سے کوئی بھی حقائق سے ثابت نہیں ہوا اور صرف قیاس آرائیوں پر مبنی ثابت ہوا۔
مزید براں گلزار حسین شاہ کی جانب سے 2021 کے آر تھری پراجیکٹ کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار کی قانونی حیثیت اور منظوریوں کی بھی تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم کے ذریعے اچھی طرح سے چھان بین کی جانی چاہیے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جواد رفیق ملک کے خلاف ان کی لاپرواہی، نگرانی اور ایک افسر کے غیر موزوں طرز عمل اور چیف سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہنے کے لائق نہ ہونے پر بھی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
جواد رفیق ملک کی لاپرواہی یا تو آسان انداز میں خاموش اختیار کر کے ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتی ہے یا آئینی قواعد، ضوابط اور قوانین سے اسٹریٹجک پہلو تہی کی طرف اشارہ کرتی ہے تاکہ گلزار حسین شاہ کو ان کے مذموم عزائم کو جاری رکھنے کے قابل بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر فرخ نوید کی فنی مہارت اور بے پناہ تعاون کے باعث ناصرف محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سیل کے قیام میں بلکہ ان کی انتھک کوششوں کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پنجاب کے متعدد منصوبوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کے لیے محکمے کا ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا جائے اور انہیں محکمے کے سیل کے سربراہ کے طور پر بحال کیا جائے۔
ماضی کے تمام اختیارات پر غور کرتے ہوئے راولپنڈی رنگ روڈ اقتصادی راہداری منصوبے کے لیے بہترین راستے کا تعین کرنے کے لیے ایک آزاد اور قابل بھروسہ انجینئرنگ کنسلٹنگ ٹیم کے ذریعے تیسرے فریق کی توثیق کی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جڑواں شہروں کے مکینوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ضابطہ اخلاق کو پورا کرنے کے بعد اس منصوبے کو اس کی بہترین شکل پر بحال کیا جانا چاہیے۔



















































